ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر اتفاق رائے ہے، شاہ اردن
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے بیشتر حصے پر اتفاق رائے ہے۔
اردن کے شاہ عبداللہ نے ٹرمپ کی طرف سے غزہ جنگ کے خاتمے کی تجویز کے بارے میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی بہت سی تفصیلات “جس پر اتفاق کیا گیا ہے” کے مطابق ہے۔
شاہ عبداللہ کے تبصرے، جن کا اردن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے حوالہ دیا ہے، منصوبے کے مندرجات نہیں بتائے گئے۔
ٹرمپ نے عرب اور مسلم رہنماؤں کو غزہ کے لیے 21 نکاتی منصوبہ پیش کیا، جو مبینہ طور پر حماس کو علاقے پر حکومت کرنے کے لیے مستقبل میں کسی بھی کردار سے روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، عرب اور مسلم ممالک کی جانب سے سکیورٹی کی ضمانت کے لیے فوجی تعاون شامل تھا اور ٹرمپ کا یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ اسرائیل مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم نہیں کرے گا۔
ڈونلڈٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہمارے پاس مشرقِ وسطیٰ میں عظیم بننے کا حقیقی موقع ہے سب پہلی بار کسی خاص مقصد کیلئے یکجا ہیں ہم یہ کام مکمل کر کے رہیں گے۔
صدرٹرمپ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عظمت حاصل کرنے کا نایاب موقع ہے سب تیار! ہم مشرق وسطیٰ میں عظمت حاصل کرکےدکھائیں گے۔
صدر ٹرمپ کے بیان کو خطے کی آئندہ پالیسی اور کسی ممکنہ معاہدے سے جوڑا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔