غزہ میں مزید 40 فلسطینی شہید، اسرائیلی فوج کا غزہ سٹی کی کچھ آبادیوں کو جبری انخلا کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 40 فلسطینی شہید ہوگئے، صہیونی فوج نے غزہ سٹی کے کچھ علاقوں کی آبادی کیلئے ہنگامی جبری انخلا کا حکم جاری دیا، جنوبی لبنان پر بھی اسرائیلی فضائیہ نے بمباری کی۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آج صبح سےاب تک اسرائیلی فوج کے حملوں میں مزید 40 فلسطینی شہید ہوگئے۔
شہید ہونےو الے افراد میں سے 10 نُصیرات پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنے، جبکہ 15 افراد غزہ سٹی میں شہید ہوئے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان آویخائی ادرعی نے غزہ سٹی کے رہائشی علاقوں رِمال، صبرا، بندرگاہ کے علاقے اور بیروت اسٹریٹ کے کچھ حصوں کے رہائشیوں کے لیے ’ہنگامی‘ جبری انخلا کا حکم جاری کیا ہے۔
ایک سیٹلائٹ نقشے پر ایک عمارت دکھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج ’ جلد ہی اس عمارت پر حملہ کرے گی‘ اور دعویٰ کیا کہ ’اس کے اندر یا قریب حماس کی دہشت گردی کی ڈھانچہ بندی موجود ہے‘، تاہم اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔
ادرعی نے کہا کہ ’اپنی حفاظت کے لیے آپ پر لازم ہے کہ فوراً عمارت خالی کریں اور جنوب کی طرف الان مواصی کے انسانی ہمدردی کے علاقے کی طرف چلے جائیں۔‘
جن فلسطینیوں نے پہلے ہی جنوب کا رخ کیا تھا ان کا کہنا ہے کہ وہاں اب کوئی پناہ گاہ یا محفوظ جگہ باقی نہیں رہی کیونکہ حالیہ ہفتوں میں رفح، خان یونس اور جنوب مشرقی غزہ کے بیشتر حصوں میں اسرائیلی فوجیں متواتر بمباری کر رہی ہیں۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ’اسرائیلی جنگی طیاروں نے آج دوپہر مدینہ پلین، کفار رمان اور جرماق کے نواحی علاقوں پر بمباری کی۔’
مقامی میڈیا پر شیئر کی جانے والی اور الجزیرہ سے تصدیق شدہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان کے جرماق اور محمودیہ کے علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
نومبر میں جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج اب بھی لبنانی سرزمین پر قابض ہے اور لبنان کے اندر فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے جن میں کئی شہری شہید ہوچکےہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج غزہ سٹی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔