کراچی، سسرال سے ملاقات کیلئے آنے والا نوجوان ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 28th, September 2025 GMT
کراچی:
فیصل آباد سے سسرال سے ملنے کے لیے آنے والے نوجوان ڈاکوؤں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئے۔
تھانہ اقبال مارکیٹ اے ایس آئی قطب الدین نے بتایا کہ پاکستان بازار تھانہ کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے 11 رحمت چوک ایم ایم کالونی گلی نمبر 13 میں موٹر سائیکل سوار مسلح ملزمان کی فائرنگ سے 30 سالہ سجاد شوکت جاں بحق ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کی اطلاع پر پولیس اور چھیپا کے ریسکیو اہلکاروں نے موقع پرپہنچ کر مقتول نوجوان کی میت کو اسپتال منتقل کی اور کرائم سین یونٹ کی مدد سے جائےوقوع کو سیل کرکے شواہدجمع کیے۔
پولیس افسر نے بتایا کہ مقتول کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور وہ چند روز قبل کراچی میں اپنے سسرال سے ملنے آیا تھا اور اتوار کی شب وہ گھر کے باہر بیٹھا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دو نامعلوم مسلح ملزمان نے اسے لوٹنے کی کوشش کی جبکہ سجاد نے مزاحمت کی۔
انہوں نے بتایا کہ نوجوان کی جانب سے مزاحمت پر ملزمان نے فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی گئی ہےجس کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کر دی گئی ہے اور پولیس واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ شہر میں رواں برس ڈکیتی مزاحمت پر فائرنگ سے جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 65 ہوگئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ فائرنگ سے
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ