اسٹیٹ بینک کی الیکٹرونک بائیکس اور رکشہ اسکیم، عام پاکستانی کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے تعاون سے تیار کی گئی وزیراعظم کی الیکٹرک بائیک اور رکشہ اسکیم باضابطہ طور پر متعارف کرا دی گئی ہے۔
اس اسکیم کا مقصد ملک بھر میں سستی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کو فروغ دینا ہے، جس کے تحت شہری سود سے پاک فائنانسنگ کے ذریعے الیکٹرک بائیک اور رکشہ خرید سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم، ایک ماہ میں نوجوانوں میں 209 ارب روپے تقسیم
حکومت نے کم اور متوسط آمدنی والے طبقے کے لیے یہ سہولت مزید قابلِ رسائی بنانے کے لیے سبسڈی دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔
Government Launches Cost Sharing Scheme for E-Bikes and Rickshaws in Pakistan
FOR FURTHER DETAILS: https://t.
— The Truth International (@ttimagazine) September 29, 2025
اسٹیٹ بینک کے مطابق الیکٹرونک بائیکس اور رکشہ اسکیم کے تحت ایک لاکھ 16 ہزار الیکٹرونک بائیکس فراہم کی جائیں گی، اسکیم کے تحت 3170 رکشے اور لوڈرز بھی فراہم کیے جائیں گے۔
اس اسکیم کے لیے اسٹیٹ بینک نے فائنانسنگ اور آپریشنل فریم ورک تیار کیا ہے جبکہ کمرشل بینکس پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی نگرانی میں رقوم کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے، اسکیم کے تحت گاڑیاں 2 مرحلوں میں فراہم ہوں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق ای بائیکس کے لیے 2 لاکھ روپے جبکہ الیکٹرونک رکشے اور لوڈرز کے لیے 8 لاکھ 80 ہزار روپے قرض دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں:پنجاب حکومت کی گرین ای ٹیکسی اسکیم کیا ہے، کون اپلائی کرسکتا ہے؟
پہلے مرحلے میں 40 ہزار ای بائیکس اور 1 ہزار ای رکشے اور لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق ای بائیکس قرض 2 سال، ای رکشہ قرض 3 سال کے لیے ہوگا، قرض کی پرائسنگ اسلامی اور روایتی بینک، کائیبور پلس 2.75 فیصد پر ہوگی، صارف کو قرض صفر فیصد مارک اپ پر ملے گا۔
وزیراعظم کی اسکیم کے دوسرے مرحلے میں 76 ہزار ای بائیکس اور 2171 ہزار رکشے اور لوڈرز فراہم کیے جائیں گے۔
مزید پڑھیں: نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے لیے وزیراعظم یوتھ پروگرام اور پلڈاٹ کا اشتراک
ای بائیکس 25 فیصد خواتین کو جبکہ 10فیصد ای بائیکس کاروبار کرنے والے افراد مثلاً کوریئرز کو فراہم کی جائیں گی۔
اسی طرح فلیٹ آپریٹرز کو 30 فیصد رکشے اور لوڈرز فراہم کیےجائیں گے، فلیٹ آپریٹر کی اہلیت اسٹیئرنگ کمیٹی طے کرے گی۔
حکومتی نمائندوں کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم طلبا، ملازمین اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے سفری اخراجات کم کرنےسمیت شہروں میں فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں بھی کمی لائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیٹ بینک اسلامی الیکٹرونک بائیکس ای بائیکس ای رکشہ رکشہ اسکیم کائیبور پلس مارک اپ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک اسلامی الیکٹرونک بائیکس ای بائیکس ای رکشہ رکشہ اسکیم کائیبور پلس مارک اپ الیکٹرونک بائیکس رکشے اور لوڈرز رکشہ اسکیم اسٹیٹ بینک بائیکس اور جائیں گے اسکیم کے اور رکشہ فراہم کی کے تحت کے لیے
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔