اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم اور تاریخی ملاقات کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے جہاں ان کا پُرتپاک استقبال کیا گیا۔

 عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان ملاقات وائٹ ہاؤس میں جاری ہے۔

قبل ازیں وائٹ ہاؤس پہنچنے پر ٹرمپ نے نیتن یاہو کا پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنماؤں نے کیمروں کے سامنے ہاتھ ملایا اور انگوٹھا بلند کرکے اعتماد کا اظہار کیا۔

اس موقع پر ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں امن کے حصول کے بارے میں "بہت پُراعتماد" ہیں۔ تاہم نیتن یاہو نے اس موقع پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور مسکراتے رہے۔

یہ ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت میں نیتن یاہو کا وائٹ ہاؤس کا چوتھا دورہ ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ بحران پر امریکا، اسرائیل اور قطر کے درمیان سفارتی سرگرمیاں تیز تر ہو گئی ہیں۔

ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات کے دوران غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت متوقع ہے۔ وائٹ ہاؤس حکام پرامید ہیں کہ ایک معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

نیتن یاہو کی آمد سے کچھ دیر قبل امریکی صدر نے قطر کے امیر حمد بن تمیم آل ثانی ٹیلی فون پر غزہ جنگ بندی سے متعلق گفتگو کی۔

ذرائع کے مطابق ایک قطری مشیر بھی وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں۔ اس پیشرفت کو غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے 21 نکاتی امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ قطر گزشتہ کئی ماہ سے غزہ میں فائر بندی کے لیے ثالثی کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ دنوں اسرائیل کے قطر میں حماس قیادت کو نشانہ بنانے والے حملے کے بعد یہ کوششیں مشکلات کا شکار ہوگئی تھیں۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نیتن یاہو وائٹ ہاؤس

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل