اسرائیل،حماس غزہ جنگ خاتمے کے لیے معاہدے کے ’بہت قریب‘ ہیں: وہائٹ ہاؤس
اشاعت کی تاریخ: 29th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے معاہدے کے ’ بہت قریب’ ہیں، آج وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی ملاقات میں غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے پر بات چیت ہوگی
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس غزہ میں جنگ ختم کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے ایک فریم ورک معاہدے پر پہنچنے کے ’ بہت قریب’ ہیں۔
کیرولین لیوٹ نے ’ فاکس اینڈ فرینڈز’ پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ 21 نکاتی امن منصوبے پر بات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ قطر کی قیادت سے بھی بات کریں گے جو حماس کے ساتھ ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ’ دونوں فریقوں کے لیے ایک معقول معاہدہ طے کرنے کے لیے دونوں کو کچھ نہ کچھ قربانی دینی ہوگی اور ممکن ہے میز سے تھوڑے ناخوش ہو کر اٹھیں، لیکن بالآخر یہی اس تنازعے کو ختم کرنے کا راستہ ہے۔
دریں اثنا برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو آج وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔
یہ ملاقات نیتن یاہو کی جمعے کو اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کے بعد ہو رہی ہے، جس میں انہوں نے متعدد مغربی ممالک کو فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
واضح رہے کہ درجنوں حکام اور سفارت کاروں نے نیتن یاہو کی تقریر کا بائیکاٹ کیا تھا اور ہال سے باہر چلے گئے تھے، جس کے باعث کانفرنس ہال کے بڑے حصے خالی رہ گئے تھے۔
آج کا وائٹ ہاؤس کا یہ دورہ اس سال کے دوران نیتن یاہو کا چوتھا دورہ ہوگا، کیونکہ اسرائیل کو غزہ کی جنگ ختم کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔
ٹرمپ نے اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے جمعے کو کہا تھا کہ وہ نیتن یاہو کو اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے (ویسٹ بینک) کو ضم کرنے کی اجازت ’ نہیں دیں گے’ ، لیکن غزہ کی جنگ پر جنگ بندی کے معاہدے کے ’ کافی قریب’ ہونے کی بھی تصدیق کی تھی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدر سے توقع ہے کہ وہ آج وائٹ ہاؤس میں بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے دوران اسرائیل-غزہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کریں گے۔
تاہم نیتن یاہو نے اتوار کو کہا تھا کہ ابھی کوئی معاہدہ ’ حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا’ ، جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ انہیں باضابطہ طور پر یہ تجویز نہیں بھیجی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وائٹ ہاؤس میں کرنے کے لیے نیتن یاہو کریں گے
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔