جرمنی افغانستان کے ساتھ ملک بدری سے متعلق معاہدے کا خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ افغان شہریوں کی وطن واپسی کا معاہدہ چاہتے ہیں اور برلن حکومت اس معاملے پر طالبان سے بات چیت شروع کرے گی۔ وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ کو بتایا کہ جرمنی کابل سے براہِ راست مذاکرات کرے گا تاکہ ان افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا سکے جو جرمنی میں جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں یا جنہیں سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ حکام اکتوبر میں کابل جائیں گے تاکہ ان افغان شہریوں کی واپسی پر بات کی جا سکے ۔ ملک بدری کے لیے خصوصی چارٹرڈ فلائٹس کے بجائے عام کمرشل پروازیں استعمال کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ جرمنی پہلے ہی جولائی میں درجنوں افغان باشندوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کی تنظیموں نے جرمنی کے اب تک کی گئی 2ملک بدریوں پر شدید تنقید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔
عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔
معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی