جرمنی افغانستان کے ساتھ ملک بدری سے متعلق معاہدے کا خواہاں
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250930-06-13
برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ وہ افغان شہریوں کی وطن واپسی کا معاہدہ چاہتے ہیں اور برلن حکومت اس معاملے پر طالبان سے بات چیت شروع کرے گی۔ وزیر داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے جرمن اخبار بلڈ ام زونٹاگ کو بتایا کہ جرمنی کابل سے براہِ راست مذاکرات کرے گا تاکہ ان افغان شہریوں کو واپس بھیجا جا سکے جو جرمنی میں جرائم کے مرتکب پائے گئے ہیں یا جنہیں سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ حکام اکتوبر میں کابل جائیں گے تاکہ ان افغان شہریوں کی واپسی پر بات کی جا سکے ۔ ملک بدری کے لیے خصوصی چارٹرڈ فلائٹس کے بجائے عام کمرشل پروازیں استعمال کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ جرمنی پہلے ہی جولائی میں درجنوں افغان باشندوں کو ملک بدر کر چکا ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کی تنظیموں نے جرمنی کے اب تک کی گئی 2ملک بدریوں پر شدید تنقید کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
اسلام آباد:ایف بی آر نے انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان کردیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اعلان کیا ہے کہ ٹیکس سال 2026 کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے کا باقاعدہ آغاز 27 جولائی سے ہوگا۔ ترجمان کی جانب سے تمام ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ٹیکس گوشوارے درست، مکمل اور دیانتداری کے ساتھ جمع کرائیں تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
ترجمان ایف بی آر کے مطابق ٹیکس ریٹرن میں فراہم کی جانے والی تمام معلومات درست اور حقیقت پر مبنی ہونا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر ٹیکس دہندہ اس بات کو یقینی بنائے کہ گوشوارے میں درج تمام تفصیلات حقائق کے مطابق ہوں تاکہ شفافیت اور درستگی برقرار رہے۔
ایف بی آر کے ترجمان نے کہا کہ بروقت اور درست ٹیکس گوشوارے مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس دہندگان کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق اپنے ریٹرن بروقت جمع کرائیں اور معلومات کی درستگی کا خاص خیال رکھیں۔