کرکٹ ٹیم کی بہتری کے لیے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مشورہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
ایشیا کپ کے فائنل میں قومی ٹیم کی شکست پر بانی پی ٹی آئی عمران خان نے محسن نقوی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے انہیں ہٹانے کی اپیل کردی ہے۔
بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کہا ہے کہ میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔
یہ بھی پڑھیے: محسن نقوی کرکٹ اور وزارت دونوں ساتھ نہیں چلا سکتے، شاہد آفریدی کی آرمی چیف سے ملاقات میں گفتگو
اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔
"میں عاصم منیر کو مشورہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر کرکٹ کی بہتری مقصود ہے تو محسن نقوی کو ہٹا کر کسی قابل شخص کو اس عہدے پر تعینات کیا جائے جس کو کرکٹ کی سمجھ ہو۔ جب سے پی سی بی کی سربراہی محسن نقوی کو سونپی گئی ہے، کرکٹ کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ " @ImranKhanPTI pic.
— PTI (@PTIofficial) September 30, 2025
عمران خان کا محسن نقوی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2012 میں قومی ٹیم بھارت کو 10 وکٹون سے شکست دی تھی لیکن اب مسلسل ہار رہی ہے کیوں کہ اس کی باگ دوڑ محسن نقوی جیسے شخص کے ہاتھ میں دے کر ٹیم کو غیرمستحکم کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی سی بی عمران خان فیلڈ مارشل کرکٹ محسن نقوی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی سی بی فیلڈ مارشل کرکٹ محسن نقوی محسن نقوی کو پی سی بی کرکٹ کی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔