گوگل کا خصوصی ڈوڈل: ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سرچ انجن گوگل نے آج اپنا ہوم پیج خصوصی ڈوڈل کے ساتھ سجایا ہے، جس میں خواتین کے ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ کے افتتاحی موقع کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
یہ ڈوڈل ٹیکنالوجی اور کھیلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ گوگل کے اس ڈوڈل میں خواتین کی نمائندگی کےلیے گلابی رنگ کو نمایاں رکھا گیا ہے اور حروف تہجی میں بیٹ اور کرکٹ اسٹمپس نمایاں ہیں۔ یہ ڈیزائن خواتین کرکٹ کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
گوگل ڈوڈل کو آج شروع ہونےو الے ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کی مناسبت سے بنایا گیا ہے، جس میں دنیا بھر کی ٹاپ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ گوگل کے اس اقدام سے خواتین کرکٹ کو ملنے والی بڑھتی ہوئی پذیرائی کا اندازہ ہوتا ہے۔
گوگل ڈوڈلز کی تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی کھیل کے ایونٹ کو اس طرح نمایاں کیا گیا ہو، تاہم خواتین کے کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے مخصوص ڈوڈل کا ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خواتین کھیلوں میں صنفی مساوات کی جانب اہم قدم ہے۔
گوگل نے اپنے بلاگ پوسٹ میں واضح کیا کہ یہ ڈوڈل خواتین کرکٹ کھلاڑیوں کی لگن، محنت اور کامیابیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ یہ نئی نسل کی خواتین کھلاڑیوں کو متاثر کرے گا اور کھیلوں میں صنفی توازن کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
ڈیٹا کے مطابق گوگل ڈوڈلز نے پچھلے 10 سال میں کھیلوں سے متعلق 50 سے زیادہ مرتبہ اپنا ڈوڈل تبدیل کیا ہے، لیکن خواتین کے کرکٹ ایونٹس کے لیے یہ خاصا کم ہے۔ اس لیے آج کا ڈوڈل اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ یہ خواتین کے کرکٹ کو عالمی سطح پر پلیٹ فارم فراہم کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ گوگل ڈوڈلز کا سلسلہ 1998 میں شروع ہوا تھا اور تب سے یہ مختلف ثقافتی، تاریخی اور سماجی واقعات کو منانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔ آج کا ڈوڈل نہ صرف ٹیکنالوجی اور کھیلوں کے درمیان پل کا کام کر رہا ہے، بلکہ یہ صنفی مساوات کے عالمی مقصد کی طرف بھی ایک اہم قدم ہے۔
خواتین کرکٹ ورلڈ کپ کے ساتھ ساتھ گوگل کا یہ ڈوڈل اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی کس طرح سماجی تبدیلیوں کو پروان چڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں ہم اور بھی زیادہ ایسے اقدامات دیکھ سکتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی اور کھیل مل کر سماجی شعور بیدار کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کرکٹ ورلڈ کپ خواتین کرکٹ خواتین کے گوگل ڈوڈل گیا ہے
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں