گوگل نے 2025 کے آئی سی سی ون ڈے ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے آغاز پر آج اپنا ڈوڈل عالمی سطح پر تبدیل کیا ہے۔

اس ڈوڈل کو Women’s Cricket World Cup 2025 Begins کا عنوان دیا گیا ہے اور اسے گوگل کے مرکزی سرچ پیج پر نمایاں طور پر دکھایا جا رہا ہے، جو ٹیکنالوجی اور کھیل کے امتزاج کی مثال بن گیا ہے۔ 

یہ ڈوڈل ایک بصری پیغام ہے جو صرف ایک تصویر یا لوگو سے بڑھ کر ہے۔ یہ کرکٹ کا جنون، خواتین کی شاندار کارکردگی اور دنیا بھر میں اس ٹورنامنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ یہ ورلڈ کپ ورژن 13 واں ہے جو 1973 سے منعقد ہورہا ہے، یعنی مردوں کے مقابلے دو سال پہلے شروع ہوا۔


ڈوڈل کی خصوصیات اور مقصد

اس ڈوڈل میں گوگل نے حرف “G” کے آئیکون کے ساتھ کرکٹ بیٹ کو ترتیب دیا ہے، جو اس ایونٹ کے آغاز کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ 

گوگل کے ڈوڈل پلیٹ فارم کی وضاحت کے مطابق یہ لوگو دنیا بھر میں مختلف ممالک میں ایسے مواقع کو منانے کےلیے استعمال ہوتا ہے جن میں کھیل، ثقافت، سائنس اور اہم یادیں شامل ہوں۔ 

ڈوڈل کا انتخاب اس لیے اہم ہے کہ گوگل کے ہوم پیج پر لاکھوں صارفین روزانہ آتے ہیں، اور اس طرح یہ بذاتِ خود ایک عالمی اسٹیج بن جاتا ہے جہاں ایک گرافک کے ذریعے کھیل کی اہمیت، شائقین کی پسند اور خواتین کرکٹ کی ترقی کو اجاگر کیا جاسکتا ہے۔


ویمنز ورلڈ کپ 2025: ٹورنامنٹ کی جھلک

2025 کا ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ بھارت میں شریک ممالک کے درمیان منعقد ہورہا ہے، جہاں بھارت اور سری لنکا افتتاحی میچ میں مقابل ہوں گے۔ اس ٹورنامنٹ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہیں جن میں پاکستان، آسٹریلیا، انگلینڈ، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، ویسٹ انڈیز بھی شامل ہیں۔

یہ مقابلے کئی شہروں میں ہوں گے اور آخر میں ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔ گوگل کے ڈوڈل کا مقصد اس ٹورنامنٹ کی شروعات کو یادگار بنانا اور ساتھ ہی عالمی سطح پر خواتین کرکٹ کی ترقی کی حمایت کرنا ہے۔


گوگل ڈوڈل کا تخلیقی عمل

گوگل ڈوڈل کی تخلیق ایک تخلیقی اور تکنیکی عمل ہے۔ ڈوڈل تیار کرنے والی ٹیم (جو ’’ڈوڈلرز’’ کہلاتی ہے) مخصوص مواقع اور تاریخوں کے نزدیک ڈوڈل تیار کرتی ہے، ان کی جانچ، تدوین اور منظوری کے بعد اسے عام سرچ پیج پر جاری کیا جاتا ہے۔ 

یہ خاص ڈوڈلز صرف گرافک عناصر نہیں بلکہ ان میں محرکات، ثقافتی رموز اور اینی میشن شامل ہوسکتے ہیں، اگر وہ زیادہ پیچیدہ ڈوڈل ہوں۔ اگرچہ آج کا ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ ڈوڈل ایک سادہ ڈیزائن ہے، اس نے گوگل کی روایتی ڈوڈل حکمت کو اچھی طرح استعمال کیا ہے۔

ٹیکنالوجی کا ایک اہم حصہ اس بات کا تعین کرنا ہے کہ یہ ڈوڈل کن ممالک میں اور کن زبانوں میں نظر آئے گا۔ گوگل کے الگورتھم اور جغرافیائی تشخیص کی بنیاد پر۔ اس لیے ایک صارف پاکستان اور بھارت میں یہ ڈوڈل دیکھے گا، اور کہیں اور وہ مختلف یا ایک عام لوگو دیکھ سکتا ہے۔


اثرات و اہمیت

گوگل کا یہ اقدام نہ صرف خواتین کرکٹ کی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے استعمال سے کھیلوں کو عوام تک پہنچانے کی نئی راہیں پیدا کرتا ہے۔ اس ڈوڈل کے ذریعے لاکھوں صارفین کو اس میچ کی یاد دہانی کی جاتی ہے، اور یہ خواتین کرکٹ کھلاڑیوں کو بھی سراہا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں، اس سے نوجوان طالب علم، تجسس پسند افراد یا کرکٹ شائقین گوگل ڈوڈل کی مدد سے ٹورنامنٹ کی معلومات، ٹیموں کے اسکواڈ اور شیڈول تک آسانی سے پہنچ سکتے ہیں۔ اس طرح، ایک سادہ لوگو تبدیل ہونے کا عمل دراصل دنیا بھر کے صارفین کو ایک سپورٹ ویژن دینے کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خواتین کرکٹ ٹورنامنٹ کی گوگل ڈوڈل ورلڈ کپ گوگل کے کرتا ہے جاتا ہے

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار