راولپنڈی(نیوز ڈیسک)جی ایچ کیو حملہ کیس میں وکلائے صفائی نے عمران خان کی موجودگی کے بغیر ریکارڈ کیے گئے 13 گواہوں کے بیان دوبارہ لینے کی درخواست دائر کردی۔

نجی ٹی وی کے مطابق جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت جج امجد علی شاہ کی طبیعت ناسازی کی وجہ سے 7 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں آج ہونے والی سماعت کے حوالے سے عدالتی عملے نے بتایا کہ جج کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، انہوں نے چھٹی لے لی ہے، جس کے بعد وکلائے صفائی حاضری لگا کر واپس روانہ ہو گئے جب کہ ملزمان کو بھی حاضری لگا کر واپس بھیج دیا گیا۔

سماعت کے موقع پر آئے ہوئے تینوں سرکاری گواہان بھی حاضری لگوا کر واپس روانہ ہو گئے۔ اس موقع پر کچہری میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے بتایا کہ جج کے چھٹی لینے کی و جہ سے آج کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔

بعد ازاں کیس میں وکلائے صفائی نے بانی چیئرمین عمران خان کے بغیر ریکارڈ کیے گئے 13 گواہان سے بیان دوبارہ لینے کی درخواست دائر کر دی ، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان گواہان نے کیا کہا ؟ عمران خان نے کچھ نہیں سنا ۔ ملزم اور وکلا کی عدم موجودگی میں ریکارڈ بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ بیانات واٹس ایپ کال سسٹم کے تحت بائیکاٹ کے بعد ریکارڈ کیے گئے جب کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرنے کے لیے ملزم کے سامنے بیان ریکارڈ ہونا لازم ہے ۔

وکلائے صفائی کی درخواست پر فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے۔ وکیل صفائی نے بتایا کہ ہم نے ویڈیو لنک واٹس ایپ کال ٹرائل ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا ہے، جہاں ہماری پٹیشن سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وکلائے صفائی کی درخواست کیے گئے لینے کی

پڑھیں:

توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔

دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔

اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔

کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران