نریندر مودی نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم لداخ میں ان ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے اور مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پولیس فائرنگ میں چار مظاہرین کی موت کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ بدھ کے روز لداخ میں مارے جانے والوں میں سابق فوجی تسیوانگ تھرچین بھی شامل تھے۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر جو کہ جنوبی امریکہ کے چار ممالک کے دورے پر ہیں، نے کرسمس کے دن تھرچن کے والد کا ایک ویڈیو پوسٹ کیا اور کہا "باپ فوج میں، بیٹا فوج میں، حب الوطنی ان کے خون میں شامل ہے، پھر بھی بی جے پی حکومت نے قوم کے اس بہادر بیٹے کو گولی مار کر قتل کر دیا، صرف اس لئے کہ وہ لداخ اور اس کے حقوق کے لئے کھڑے تھے، باپ کی درد بھری آنکھیں ایک سوال کرتی ہیں کہ کیا آج قوم کی خدمت کا یہی صلہ ہے"۔ راہل گاندھی نے ہندی میں لکھی اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہم لداخ میں ان ہلاکتوں کی غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں اور مجرموں کو سخت ترین سزا دی جائے۔ کانگریس کے سابق صدر نے کہا کہ نریندر مودی نے لداخ کے لوگوں کو دھوکہ دیا ہے، وہ اپنے حقوق مانگ رہے ہیں، ان سے بات کریں، تشدد اور خوف کی سیاست بند کریں۔
کانگریس پارٹی نے کہا کہ یہ "سخت توہین آمیز" ہے کہ لداخ میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ میں ہلاک ہونے والوں میں سابق فوجی تھرچن بھی شامل ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کمیونیکیشن انچارج جے رام رمیش نے ٹویٹر پر ایک پوسٹ میں کہا کہ تھرچین کو سیاچن گلیشیر میں تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے 1999ء کی کارگل جنگ میں بہادری سے لڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد بھی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تھرچین لداخ کو چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کے لئے پرامن احتجاج کی قیادت کر رہے تھے۔ جے رام رمیش نے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک اور غم و غصہ کی بات ہے کہ وہ اور تین دیگر پانچ دن قبل مظاہرین پر فائرنگ میں مارے گئے تھے۔ واضح رہے کہ 24 ستمبر کو لداخ کو ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے والا احتجاج پُرتشدد ہو جانے پر پولیس کی فائرنگ میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے بی جے پی کے ایک مقامی دفتر کو آگ لگا دی اور مبینہ طور پر پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔ 26 ستمبر کو موسمیاتی کارکن سونم وانگچک کو جمعہ کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا اور بعد میں راجستھان کی جودھ پور جیل میں بند کر دیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فائرنگ میں کا مطالبہ نے کہا کہ
پڑھیں:
محسن نقوی کی مستونگ کے قریب سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری پر فائرنگ کی پرزور مذمت کی گئی ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیشن جج عبدالحکیم اور گن مین کے جاں بحق ہونے کے واقعہ پر اظہار افسوس کیا۔ محسن نقوی نے سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کی جانب سے مرحومین کی بلندی درجات کیلئے دعا، وزیرداخلہ محسن نقوی نے زخمی جوڈیشل مجسٹریٹ طارق لاشاری اور دیگر افراد کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محسن نقوی نے کہا کہ ایسی بزدلانہ کارروائیاں قوم کے پختہ عزم کو پست نہیں کر سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔