وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 30th, September 2025 GMT
کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ نے گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایت کردی اور کہا کہ مارکیٹ میں گندم ہوگی تو آٹا یا روٹی کی قیمت مستحکم رہے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت گندم کی ریلیز پالیسی پر اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر زراعت محمد بخش مہر، وزیر مخدوم محبوب الزمان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، چیئرمین ایس بی آر واصف میمن، سیکریٹری زراعت زمان ناریجو، سیکریٹری خوراک بچل راہپوٹو، اسپیشل سیکریٹری خزانہ اصغر میمن اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت چاہتی ہے کہ گندم کی مارکیٹ میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے، مارکیٹ میں گندم ہوگی تو آٹا یا روٹی کی قیمت مستحکم رہے گی۔
وزیر خوراک نے بتایا کہ سندھ میں اس وقت 12 لاکھ ٹن گندم موجود ہے، نجی شعبے میں کے پاس بھی 6 لاکھ ٹن دستیاب ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ساڑھے چار ماہ کے لئے یہ گندم کافی ہے، اسی دوران نئی فصل آجائے گی، گندم کے ذخیرہ کی پالیسی بنا کر منظوری لیں، میں گندم ریلیز پالیسی اور اس کی قیمت اسی ہفتے طے کرنا چاہتا ہوں۔
وزیر خوراک نے اجلاس کو بتایا کہ دو لاکھ ٹن گندم ہر ماہ نکلتی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے 25 ایکڑ والوں کو حکومت سپورٹ کر رہی ہے، ہم 25 ایکڑ والے کاشت کاروں کو ایک بیگ ڈی اے پی اور 2 بیگ یوریا دینے جا رہے ہیں، سپورٹ پرائس مقرر کرنا چاہتا ہوں تاکہ گندم کی اچھی فصل لگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں گندم کی کہا کہ
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔