Nawaiwaqt:
2026-07-24@09:06:00 GMT

ٹرمپ منصوبہ: پاکستان، سعودیہ، فلسطینی اتھارٹی کی حمایت

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

ٹرمپ منصوبہ: پاکستان، سعودیہ، فلسطینی اتھارٹی کی حمایت

اسلام آباد‘ ریاض‘ نیویارک‘ برسلز  (آئی این پی+ این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو امن کیلئے نادر موقع قرار د یتے ہوئے کہا ہے کہ  اگرچہ غزہ میں امن کے امکانات تیزی سے معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں مگر اسی دوران نئی سفارتی راہیں بھی کھل رہی ہیں، پاکستان اس مشاورتی عمل میں فعال طور پر شریک رہے گا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرق وسطی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ اسرائیل کا ای ون بستی منصوبہ دو ریاستی حل پر براہ راست حملہ ہے۔ مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین سے کاٹنے اور مغربی کنارے کی جغرافیائی وحدت کو ختم کرنے کی یہ کوشش صریحاً بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے، دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ کی جنگ کا خاتمہ کرنے کے بیان پر 8 مسلم ممالک کے مشترکہ بیان پر ترجمان دفتر خارجہ کا رد عمل بھی سامنے آگیا۔ بیان دینے والے 8 ممالک میں پاکستان، اردن، یواے ای، انڈونیشیا، ترکیے، سعودی عرب، مصر اور قطر شامل ہیں۔ ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق وزرائے خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت اور امن کی کوششوں کا خیرمقدم کیا، غزہ جنگ ختم کرنے اور فلسطینیوں کی بے دخلی روکنے کے امریکی اعلان کا خیرمقدم کیا۔ وزرائے خارجہ نے امریکا کے ساتھ امن کے لیے شراکت داری پر زور دیا اور خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے عزم کا اعادہ کیا۔ ترجمان کے مطابق دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔ غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی انخلا پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے تعاون کا اعلان کیا۔ ادھر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر سے فلسطینی ریاست پر اتفاق نہیں کیا ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے غزہ جنگ بندی سے متعلق مجوزہ منصوبے کے اعلان کے چند گھنٹوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم کا بیان سامنے آیا ہے۔ نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکی صدر سے گفتگو میں فلسطینی ریاست پر اتفاق نہیں کیا ہے اور فلسطینی ریاست کی بات معاہدے میں  بھی نہیں لکھی ہے۔ ایک بات واضح ہے ہم فلسطینی ریاست کی سختی سے مخالفت کریں گے جبکہ اسرائیلی فوج غزہ کے بیشتر حصوں میں موجود رہے گی۔ حماس نے منصوبہ رد کیا تو اسرائیل اپنا کام مکمل کرے گا۔ غزہ میں امن کے لیے 20 نکاتی منصوبہ پیش کرنے پر برطانوی وزیراعظم نے کہا ہے کہ تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اکٹھے ہوں۔ حماس کو ہتھیار ڈال کر اور یرغمالیوں کو رہا کرکے مصائب کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کیا ہے۔ یورپی یونین کے اعلی نمائندہ برائے خارجہ امور جوزپ بوریل نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایک بڑے طاقتور ملک نے نہ صرف جنگ بندی بلکہ غزہ کی تعمیر نو اور انسانی حقوق کی حفاظت کے لیے واضح خاکہ دیا ہے۔ ہم اس منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ تمام فریقین تعمیری مذاکرات میں شامل ہوں گے۔ فرانس کے صدر، جرمنی کے چانسلر، اٹلی کی وزیراعظم اور سپین کے وزیرِاعظم نے بھی اس منصوبے کی حمایت میں بیانات دیے ہیں۔ ان رہنمائوں کا کہنا تھا کہ اگر اس پلان پر عمل درآمد ہو تو مشرق وسطی میں ایک پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یورپی رہنمائوں نے خاص طور پر ان نکات پر زور دیا جن میں غزہ میں انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اسرائیلی افواج کا مرحلہ وار انخلا، فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق دو ریاستی حل شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کا خیرمقدم کیا۔ انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ امن کیلئے عرب اور مسلم ممالک کا اہم کردار بھی قابل تعریف ہے۔ معاہدے اور اس کے نفاذ کے لئے تمام فریقوں کا پرعزم ہونا اہم ہے۔ ہماری اولین ترجیح غزہ تنازع سے پیدا شدید انسانی تکالیف کو کم کرنا ہے۔ غزہ میں فوری جنگ بندی‘ بلا رکاوٹ انسانی امداد کی رسائی ہونی چاہئے۔ غزہ سے تمام یرغمالیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی ہونی چاہئے۔ امید ہے یہ اقدامات دو ریاستی حل کیلئے سازگار حالات پیدا کریں گے۔ اقوام متحدہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے غزہ میں جنگ بندی کے لئے کوششوں پر بیان میں کہا ہے کہ ریاست فلسطین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی غزہ جنگ کے خاتمے کے لئے کوششوں کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اعلامیہ کے مطابق امریکہ‘ خطے اور دیگر شراکت داروں سے مل کر جامع معاہدے کے ذریعے غزہ کی جنگ کا خاتمہ کریں گے۔ معاہدہ غزہ‘ مغربی کنارے‘ فلسطینی زمینوں پر قبضے کے خاتمے اور منصفانہ امن کی راہ ہموار کرے گا۔ معاہدہ دو ریاستی حل پر مبنی ہو گا۔ آزاد اور خود مختار ریاست فلسطین اسرائیل کے ساتھ سلامتی‘ امن کا تعلق رکھے گی۔ ریاست فلسطین نیویارک میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں اپنے عہد کی بھی تجدید کرتی ہے۔ فلسطینی ریاست اصلاحاتی پروگرام کی تکمیل کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ جنگ کے خاتمے کے ایک سال کے اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔ تمام امیدوار انتخابات میں بین الاقوامی وعدوں اور پی ایل او پالیسی کی پاسداری کریں گے۔ ایک نظام‘ ایک قانون اور واحد فلسطینی سکیورٹی فورس کے اصول کی پاسداری کریں گے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زیرصدارت کابینہ کا اجلاس ہوا۔ غزہ میں تنازع کے خاتمے کیلئے امریکی صدر کے جامع منصوبے کا خیرمقدم کیا گیا۔ سعودی کابینہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے کو خوش آئند قرار دیا۔ سعودی کابینہ نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں شامل کرنے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ امریکہ کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی تاکہ غزہ کے معاملے پر جامع معاہدے پر پہنچ سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کا خیرمقدم کیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطینی ریاست بین الاقوامی دو ریاستی حل نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ امریکی صدر منصوبے کا کے مطابق کے خاتمے کریں گے امن کی غزہ کی کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • موبائل سم صار فین ہوشیار ، پی ٹی اے کا اہم انتباہ جار ی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت