ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ جاری، پاکستان کی معیشت کے بارے میں کیا پیشگوئی کی گئی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان کے مالی سال 2026 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو کا تخمینہ 3 فیصد لگایا ہے، جو حکومت کے مقرر کردہ 4.2 فیصد ہدف سے کم ہے۔
بینک نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ تباہ کن سیلاب، جن سے انفراسٹرکچر اور زرعی زمین کو شدید نقصان پہنچا، معاشی ترقی کو سست کر سکتے ہیں۔ مالی سال 2026 کے لیے افراطِ زر کا اندازہ 5.
یہ بھی پڑھیے: کاروباری خواتین کو قرضوں کی فراہمی کے لیے اے ڈی بی کی ساڑھے 15 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کو قرض اور ادائیگیوں کے توازن سے متعلق کم ہوتے خطرات، بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری، اور امریکا-پاکستان تجارتی معاہدے کے بعد پیدا ہونے والے کاروباری اعتماد سے سہارا ملے گا۔ تاہم، سیلاب سے تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور زرعی اراضی ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کی کوششیں، جنہیں مالی سال 2026 کے بجٹ میں تعمیراتی شعبے کے لیے دی گئی مراعات سے سہارا ملے گا، ان منفی اثرات کو جزوی طور پر کم کر سکتی ہیں۔ سرمایہ کاری میں اضافے سے بھی گھریلو طلب کو تقویت ملنے کی توقع ہے، بشرطیکہ ساختی اصلاحات اور مضبوط مالی و اقتصادی پالیسیاں جاری رہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی ہماری معیشت کے بارے میں مثبت اشارے خوش آئند ہیں، وزیر خزانہ
اے ڈی بی کی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کے لیے کئی خطرات بھی اجاگر کیے گئے ہیں جن میں پالیسی میں نرمی یا اصلاحات پر کمزور عملدرآمد، محصولات اور مالیاتی استحکام کے اہداف میں ناکامی، موسمیاتی تبدیلی اور آفات، اور عالمی جغرافیائی و پالیسی عدم استحکام جو افراطِ زر، بیرونی کھاتوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگر اصلاحات کی رفتار تیز ہوئیں اور عالمی حالات زیادہ سازگار رہے تو پاکستان کی ترقی موجودہ اندازوں سے بڑھ سکتی ہے۔ کاروباری اعتماد میں اضافہ، شرح سود میں کمی اور مالیاتی خسارے میں کمی نجی سرمایہ کاری کے لیے مزید مواقع فراہم کرے گی۔
یہ بھی پڑھیے: 2050 تک پاکستان دنیا کی 10 سے 15 بڑی معیشتوں میں شامل ہوجائے گا، امریکی ناظم الامور
مزید یہ کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–2030 کے تحت اصلاحات اور برآمد کنندگان کے لیے ڈیجیٹل ٹیکس ریفنڈ سسٹم سے لیکویڈیٹی میں بہتری، مسابقت کو فروغ دے گی اور نجی سرمایہ کاری میں حوصلہ افزائی ہوگی۔
ترسیلاتِ زر میں اضافے کا بھی امکان ہے، جس کی وجہ بیرونی استحکام، مستحکم زرِ مبادلہ کی شرح اور سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کی ضرورت ہوگی۔ یہ آمدنی زرعی پیداوار میں کمی سے گھریلو کھپت پر پڑنے والے منفی اثرات کو کسی حد تک پورا کر سکے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آوٹ لک رپورٹ اے ڈٖی بی معیشت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آوٹ لک رپورٹ اے ڈ ی بی مالی سال 2026 پاکستان کی کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔