توہین مذہب مقدمے میں ڈیڑھ سال سے گرفتار ملزم حسن عابد کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 8 اکتوبر کو تمام گواہان کو ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ہادی علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، فریقین کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن، عادل عزیز قاضی اور ڈپٹی ڈائریکٹر FIA عدالت میں پیش ہوئے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ کو 8 اکتوبر کو ہی گواہان پر وکلاء کی جرح مکمل کرانے اور ہائی کورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم کو ٹرائل کورٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایم آئی ٹی کمیٹی دونوں ٹرائل کورٹس کے دورے کرے اور رپورٹ جمع پیش کرے کہ عدالتیں کام کیوں نہیں کر رہیں۔

عدالت نے  ایم آئی ٹی کو آئندہ سماعت پر ٹرائل کورٹ سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی، وکیل درخواست گزار ہادی علی چھٹہ نے کہا کہ  نئے گراؤنڈز پر کچھ دستاویزات جمع کرنا چاہتے ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ میرٹ پر اس کی ضمانت خارج ہوچکی اور آپ نئے ڈاکومنٹس جمع کرنا چاہتے ہیں؟ اس کیس میں کُل کتنے گواہان ہیں اور کتنوں پر جرح ہوئی ہے؟

ہادی علی ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ اس کیس میں کل 7 گواہان ہیں اور کسی بھی گواہ پر جرح نہیں ہوئی، گواہان کو بار بار جرح کیلئے سمن کیا گیا مگر وہ پیش نہیں ہورہے، سمن کے باجود پیش نہ ہونے پر ٹرائل کورٹ وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرتی، ہائی کورٹ نے پہلے چھ ماہ اور پھر 8 ماہ کی ڈائریکشن دی تھی جو کچھ دنوں میں ختم ہو جائیگی۔

عدالت نے پرانے عدالتی فیصلوں کو کیس ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے پر وکیل ہادی علی کی سرزنش کی، عدالت نے وکیل ہادی علی سے مکالمہ کیا کہ پرانے آرڈرز ریکارڈ کا حصہ بناکر عدالت کو بتانا آپ کا کام ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس میں تفتیشی کون ہے اور کہاں ہے؟ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ اس کیس کا تفتیشی مدثر شاہ ہے اور وہ پشاور ٹرانسفر ہوچکے،عدالت نے کہا کہ ڈی جی این سی سی آئی اے کو بتائیں تفتیشی کو 8 اکتوبر کو ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کریں۔

عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری گواہان کیس سے غیر حاضر رہے اور عدالتی حکم کی تعمیل نہیں ہوئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر ایک مثال بنائیں گے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 10 اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت نے ہادی علی میں پیش اس کیس آئی اے

پڑھیں:

سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم