توہین مذہب کیس: ڈی جی این سی سی آئی اے کو تمام گواہ ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
توہین مذہب مقدمے میں ڈیڑھ سال سے گرفتار ملزم حسن عابد کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 8 اکتوبر کو تمام گواہان کو ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے ہادی علی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے، فریقین کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن، عادل عزیز قاضی اور ڈپٹی ڈائریکٹر FIA عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ کو 8 اکتوبر کو ہی گواہان پر وکلاء کی جرح مکمل کرانے اور ہائی کورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم کو ٹرائل کورٹ کا دورہ کرنے کی ہدایت کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ایم آئی ٹی کمیٹی دونوں ٹرائل کورٹس کے دورے کرے اور رپورٹ جمع پیش کرے کہ عدالتیں کام کیوں نہیں کر رہیں۔
عدالت نے ایم آئی ٹی کو آئندہ سماعت پر ٹرائل کورٹ سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت کی، وکیل درخواست گزار ہادی علی چھٹہ نے کہا کہ نئے گراؤنڈز پر کچھ دستاویزات جمع کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ میرٹ پر اس کی ضمانت خارج ہوچکی اور آپ نئے ڈاکومنٹس جمع کرنا چاہتے ہیں؟ اس کیس میں کُل کتنے گواہان ہیں اور کتنوں پر جرح ہوئی ہے؟
ہادی علی ایڈوکیٹ نے جواب دیا کہ اس کیس میں کل 7 گواہان ہیں اور کسی بھی گواہ پر جرح نہیں ہوئی، گواہان کو بار بار جرح کیلئے سمن کیا گیا مگر وہ پیش نہیں ہورہے، سمن کے باجود پیش نہ ہونے پر ٹرائل کورٹ وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کرتی، ہائی کورٹ نے پہلے چھ ماہ اور پھر 8 ماہ کی ڈائریکشن دی تھی جو کچھ دنوں میں ختم ہو جائیگی۔
عدالت نے پرانے عدالتی فیصلوں کو کیس ریکارڈ کا حصہ نہ بنانے پر وکیل ہادی علی کی سرزنش کی، عدالت نے وکیل ہادی علی سے مکالمہ کیا کہ پرانے آرڈرز ریکارڈ کا حصہ بناکر عدالت کو بتانا آپ کا کام ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس کیس میں تفتیشی کون ہے اور کہاں ہے؟ ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ اس کیس کا تفتیشی مدثر شاہ ہے اور وہ پشاور ٹرانسفر ہوچکے،عدالت نے کہا کہ ڈی جی این سی سی آئی اے کو بتائیں تفتیشی کو 8 اکتوبر کو ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کریں۔
عدالت نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری گواہان کیس سے غیر حاضر رہے اور عدالتی حکم کی تعمیل نہیں ہوئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو روزانہ کی بنیاد پر سن کر ایک مثال بنائیں گے۔
عدالت نے کیس کی سماعت 10 اکتوبر تک کیلئے ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے ٹرائل کورٹ ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت نے ہادی علی میں پیش اس کیس آئی اے
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔