Jasarat News:
2026-06-03@02:39:27 GMT

ٹیکس پالیسی پر نیا موڑ، کیا نیا ٹیکس نافذ کیا جا رہا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT

ٹیکس پالیسی پر نیا موڑ، کیا نیا ٹیکس نافذ کیا جا رہا ہے؟

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: ملک میں سیلاب کے باعث منی بجٹ کی افواہوں پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی قسم کے اضافی ٹیکس اقدامات نہیں اٹھا رہی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور اب تک کی پیشرفت حوصلہ افزا ہے۔ ان کے مطابق “ہم درست سمت میں جا رہے ہیں اور آئی ایم ایف کے ساتھ جتنی بات ہوئی ہے وہ مثبت رہی ہے۔”

وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو کو 11 فیصد پر لانے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اس کے لیے عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کے بجائے عدالتوں میں زیر التوا ٹیکس مقدمات سے وصولیوں پر توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان مقدمات میں خاطر خواہ آمدن متوقع ہے۔

اس سے قبل انہوں نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں اقتصادی جائزے کے تحت مختلف مارک اپ پر بات چیت جاری ہے، مگر فی الحال ٹیکس شارٹ فال پورا کرنے کے لیے متبادل اقدامات نہیں کیے جا رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف