آزاد کشمیر: عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیلئے حکومتی مذاکراتی ٹیم مظفر آباد پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے حکومتی ٹیم مظفر آباد پہنچ گئی۔
وفد میں وزیراعظم آزاد کشمیر، رانا ثنا اللہ، طارق فضل چوہدری، احسن اقبال، سردار یوسف، پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ شامل ہیں۔ حکام کے مطابق یہ وفد احتجاج کی قیادت کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی سے ملاقات کرے گا اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے پرامن طور پر حل کرنے کی کوشش کرے گا۔
روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات سنے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے عناصر بھی موجود ہیں جو پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس موقع پر وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے بیرون ملک ہونے کے باوجود اس معاملے کا نوٹس لیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عوامی ایکشن کمیٹی
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔