ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایچ ای سی ضیاء القیوم مستعفی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ضیاء القیوم — فائل فوٹو
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ضیاء القیوم اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔
انہوں نے اپنا استعفیٰ قائم مقام چیئرمین/ وفاقی سیکریٹری تعلیم کو ارسال کردیا ہے۔
یاد رہے کہ سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ضیاء القیوم کے درمیان اربوں روپوں کے لیپ ٹاپ کی خریداری کے معاملے میں سنگین اختلافات ہو گئے تھے۔
اسلام آباد (غربی) کے سول جج کی جانب سے جاری عبوری حکم کی تعمیل میں، پروفیسر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے باضابطہ طور پر ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا چارج فوری طور پر دوبارہ سنبھال لیا ہے۔
بعدازاں سابق چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے کمیشن کا اجلاس بلا کر ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ضیاء القیوم کو فارغ کردیا تھا۔ تاہم ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ضیاء القیوم نے عدالت سے اسٹے لے لیا تھا۔
اس دوران ڈاکٹر مختار احمد کی مدت پوری ہوگئی اور لیپ ٹاپ کے معاملے پر ان کی بھی توسیع نہیں ہوئی جبکہ چیئرمین کے عہدے کا اضافی چارج وفاقی سیکریٹری تعلیم کو دے دیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔