2026 فٹبال ورلڈکپ میرا آخری ہوگا: کرسٹیانو رونالڈو کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
پرتگال کے عالمی شہرت یافتہ فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو نے اعلان کیا ہے کہ 2026 کا فیفا ورلڈکپ ان کے کیریئر کا آخری عالمی مقابلہ ہوگا۔
40 سالہ اسٹار فٹبالر جنہوں نے کلب اور بین الاقوامی سطح پر 950 سے زائد گولز اسکور کیے۔ انہوں نے کہا کہ میں ایک یا دو سال کے اندر فٹبال سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا۔
رونالڈو نے ایک سعودی فورم میں ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ جی بالکل 2026 کا فیفا ورلڈکپ میرا آخری ہوگا، اُس وقت میری عمر 41 سال ہوگی اور مجھے لگتا ہے یہی مناسب وقت ہے۔
پانچ مرتبہ ’بیلن ڈی اور‘ ایوارڈ جیتنے والے رونالڈو نے مزید کہا کہ جب میں نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ جلد لینے والا ہوں، تو میرا مطلب یہی تھا شاید ایک یا دو سال کے اندر۔
حالیہ انٹرویو میں رونالڈو نے اعتراف کیا کہ ریٹائرمنٹ میرے لیے آسان نہیں ہوگی، یہ مشکل ہوگا۔ ہاں شاید میں رو بھی دوں، یہ لمحہ بہت بھاری ہوگا۔
رونالڈو 2023 سے سعودی عرب کے کلب النصر کی نمائندگی کر رہے ہیں، انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اگلے سال اپنے چھٹے ورلڈکپ میں حصہ لوں گا۔
واضح رہے کہ پرتگال کی ٹیم ابھی 2026 ورلڈکپ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکی، تاہم وہ جمعرات کو آئرلینڈ کے خلاف میچ جیت کر اپنی جگہ پکی کر سکتی ہے۔
گزشتہ ماہ رونالڈو نے ورلڈکپ کوالیفائرز کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ بھی قائم کیا، رونالڈو اس وقت بھی بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں، ان کے گولز کی تعداد 143 ہے۔
گزشتہ ماہ بلومبرگ نے انہیں کھیلوں کی تاریخ کا پہلا ارب پتی کھلاڑی قرار دیا، جب کہ فوربز کی فہرست میں وہ دس سال میں چھٹی مرتبہ دنیا کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے فٹبالر ٹھہرے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رونالڈو نے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔