ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
ویب ڈیسک :ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ضیاالقیوم نے استعفے کی وجہ ذاتی وجوہات بتائیں، ڈاکٹر ضیاالقیوم نے استعفے میں کہا عدالتی کیسز کی مزید پیروی نہیں کروں گا۔
ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم کو دو مرتبہ مقامی عدالت اور اسلام ہائیکورٹ نے اپنے عہدے پر بحال کیا تھا۔
یادر رہے ضیاء القیوم کو ایچ ای سی کمیشن نےجون میں ان کے عہدے سے ہٹایا دیا تھا۔
پنجاب پولیس کے دو افسروں کے تبادلے
ضیا القیوم کے استعفے کے بعد ایچ ای سی میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور چیئرمین دونوں عہدے خالی ہوگئے۔
نئے ایچ ای سی چیئرمین کیلئے درخواستوں کی سکروٹنی کا عمل وزارت تعلیم میں جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔