پی ٹی آئی نے 2014 میں بھی استعفے دیے تھے وہ بھی منظور نہیں کیے تھے، اسپیکر قومی اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
فائل فوٹو
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے 2014 میں بھی استعفے دیے تھے وہ بھی منظور نہیں کیے تھے۔
اسلام آباد میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ پی ٹی آئی والے پہلے بھی پارلیمنٹ میں واپس آگئے تھے، امید ہے اب بھی قائمہ کمیٹیوں میں آجائیں گے، ہماری کوشش ہے یہ پارلیمنٹ کا پوری طرح حصہ رہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی ریکوزیشنز آرہی ہیں انہیں ہم نہیں روک سکتے، قائمہ کمیٹیوں کو کسی صورت غیر فعال نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ میری پوری کوشش ہے کہ پی ٹی آئی واپس آئے اور قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنے، پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو اپنے ایم این اے ہونے کی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان جن کمیٹیوں کے چیئرمین تھے انکی جگہ ابھی نئے چیئرمین نہیں لگائے، میں کوشش کرتا رہوں گا کہ وہ قائمہ کمیٹیوں کا دوبارہ حصہ بن جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹیوں پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور میں رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔
نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق درخواست آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سےجمع کرائی گئی،جس میں ثاقب چدھڑ کےکاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار کےمطابق ثاقب چدھڑ کےخلاف سپیکرپنجاب اسمبلی کےپاس نااہلی کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے،اس لیے ان کی رکنیت برقرار رہنےیا نہ رہنے کےمعاملے کی جانچ پڑتال کے لیےانتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
درخواست میں مؤقف اختیارکیا گیا ہےکہ رکن پنجاب اسمبلی پرایک خاتون کومہنگی گاڑیاں،قیمتی تحائف اورجائیداد تحفےمیں دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں،جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ ہے۔
درخواست گزار نےمؤقف اپنایاکہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، لہٰذا ثاقب چدھڑ، انکی اہلیہ اور زیرِ کفالت افراد کے تمام پرانے اور نئے اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
مزید :