جنوبی کوریا کے سابق وزیراعظم اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سیئول: جنوبی کوریا میں سیاسی بحران نے ایک نیا موڑ اختیار کر لیا ہے، جہاں سابق وزیراعظم ہوانگ کیو آہن اور نیشنل انٹیلیجنس سروس کے سابق سربراہ چو تے یونگ کو مارشل لاء میں معاونت اور بغاوت پر اکسانے کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق دونوں شخصیات کو بدھ کی صبح پولیس نے ان کے گھروں سے حراست میں لیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ان گرفتاریوں کا تعلق دسمبر 2024 میں نافذ کیے گئے متنازع مارشل لاء سے ہے جو اس وقت کے صدر کے حکم پر ملک بھر میں لاگو کیا گیا تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ہوانگ کیو آہن پر الزام ہے کہ انہوں نے اس فیصلے میں مشاورت اور حمایت فراہم کی، جب کہ انٹیلیجنس سربراہ پر ریاستی اداروں کے غلط استعمال اور سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں حصہ لینے کا شبہ ہے۔
یاد رہے کہ صدر کے مارشل لاء نافذ کرنے کے اقدام پر پارلیمنٹ نے شدید ردعمل دیا تھا اور ووٹنگ کے ذریعے اس فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد صدر کو عہدے سے برطرف کر کے ان کے خلاف بغاوت کے الزام میں عدالتی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق، ان گرفتاریوں سے ملک میں جاری سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ عوامی سطح پر جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
گھوٹکی میں ڈہرکی سے سابق رکن صوبائی اسمبلی شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا گیا۔
ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتران کا کہنا ہے کہ جہانگیر شر کو نامعلوم موٹر سائیکل سوار ملزمان نے اغوا کیا تھا۔ واقعے کی اطلاع پر پولیس اور قبیلے لوگوں نے اغوا کاروں کا تعاقب کیا۔
انہوں نے بتایا کہ بچے کو پولیس نے مقابلے کے بعد بازیاب کروا لیا تاہم اس دوران ملزمان فرار ہوگئے۔
ایس ایس پی گھوٹی کا کہنا تھا کہ اغواکاروں کی نشاندہی ہوگئی ہے، ملزمان کا تعلق بھی شر قبیلے سے ہے۔ ملزمان کی گرفتاری کے لیے تعاقب جاری ہے۔