بی جے پی بندوق کی نوک پر کشمیریوں کو قومی ترانہ گانے پر مجبور کررہی ہے، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
منگل کی شام ٹی آر سی فٹبال گراؤنڈ میں قومی ترانے کے دوران بیٹھے رہنے پر پولیس نے کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے بی جے پی پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کشمیر میں لوگوں کو بندوق کی نوک پر قومی ترانے کے لیے کھڑے ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قومی ترانے کے دوران کھڑے نہ ہونا حکومت کی ناکامی ہے۔ بگھاٹ علاقے میں کھیلوں کے میدان کے دورے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی نے ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جہاں وہ بندوق کی نوک پر لوگوں کو قومی ترانے کے لئے کھڑے ہونے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے طالب علمی کے زمانے یاد ہیں، جب بھی قومی ترانہ بجایا جاتا تھا، ہم احترام کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے، تب کوئی جبر نہیں تھا، یہ ان (بی جے پی) کی ناکامی ہے۔
منگل کی شام ٹی آر سی فٹبال گراؤنڈ میں قومی ترانے کے دوران بیٹھے رہنے پر پولیس نے کئی نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ محبوبہ مفتی اس بارے میں ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ محبوبہ مفتی نے بگھاٹ برزلہ میں ایک نجی اسکول مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ (MET) کے کھیل کے میدان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا "میں پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور ایم ای ٹی اسکول گراؤنڈ کو چھوڑ دیں تاکہ نوجوان اور مقامی باشندے عوامی جگہ کو کھیلوں اور دیگر سماجی سرگرمیوں جیسے کہ شادیوں کے لئے استعمال کرتے رہیں، اگر اس گراؤنڈ کو بھی چھین لیا جائے تو نوجوان گمراہ ہو کر منشیات کی لت یا دیگر ناپسندیدہ سرگرمیوں کا شکار ہو سکتے ہیں"۔
محبوبہ مفتی نے شہر کے چٹہ بل علاقے میں ایک ڈیری فارم گراؤنڈ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے مکینوں سے بات چیت کی۔ مقامی باشندوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیری فارم کا گراؤنڈ ان کے لئے کھلا رکھا جائے کیونکہ یہ ان کا واحد کھیل کا میدان ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ یہ جگہ کئی دہائیوں سے کھیلوں کی سرگرمیوں کے لئے استعمال ہوتی رہی ہے۔ نریندر مودی نے اپنی "من کی بات" تقریر میں پلوامہ میں نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ میں آرمی کور کمانڈر سے اپیل کرتی ہوں کہ براہ کرم اس بات کو یقینی بنائیں کہ اس علاقے کے نوجوان اس کھیل کے میدان سے محروم نہ رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محبوبہ مفتی نے قومی ترانے کے انہوں نے کہا نے کہا کہ کے دوران بی جے پی رہی ہے کے لئے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔