رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے میں 33 فیصد اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
اسلام آباد:
مالی سال 26-2025 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر)میں ملک کا تجارتی خسارہ 33 فیصد اضافہ کے ساتھ بڑھ کر 9 ارب 36 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہوگیا ہے جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں تجارتی خسارے کا حجم 7 ارب ڈالر تھا۔
وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارے میں 2 ارب 32 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، پہلی سہہ ماہی میں ملکی برآمدات 7 ارب 60 کروڑ جبکہ درآمدات تقریبا 17 ارب ڈالر رہی ہیں۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ملکی برآمدات 3.
ادارہ شماریات نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ( ستمبر 2025 ) میں برآمدات 3.64 فیصد اضافے سے دو ارب 50 کروڑ ڈالر رہی ہیں جبکہ اگست 2025 میں برآمدات کا حجم 2 ارب 41 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ ستمبر 2024 کی نسبت برآمدات میں 11.71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، گزشتہ سال ستمبر میں ملکی برآمدات کا حجم 2 ارب 83 کروڑ ڈالر سے زائد تھا جبکہ ستمبر 2025 میں درآمدات کا حجم 5 ارب 84 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
ادارہ شماریات نے بتایا کہ ستمبر 2025 میں تجارتی خسارہ 16.33 فیصد اضافے سے 3 ارب 34 کروڑ ڈالر رہا اور ستمبر 2025 میں گزشتہ سال کی نسبت تجارتی خسارہ 46 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی پہلی سہ ماہی مالی سال کی میں تجارتی کروڑ ڈالر ماہی میں کا حجم
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔