آئی ایم ایف نے سیلاب نقصانات کی حتمی رپورٹ جلدمانگ لی،پنجاب کااپنے وسائل سے متاثرین کی امدادکاعندیہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
سندھ میں 50 ارب اورخیبرپختونخوا میں 30 ارب تک کے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ، جبکہ سیلاب سے بلوچستان میں نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں،پنجاب حکومت کا سرپلس بجٹ کی نشاندہی سے انکار
رواں مالی سال ترسیلات زر ریکارڈ 43ارب ڈالر تک جانے اور مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جانے کا امکان ہے(ذرائع وزارت خزانہ) پاکستان اور آئی ایم ایف مشن میں اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری
آئی ایم ایف نے ملک میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی حتمی رپورٹ جلد مانگ لی ہے جب کہ پنجاب نے اپنے ہی وسائل سے متاثرین کی امداد کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف مشن کے درمیان دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات جاری ہیں، جس میں پاکستانی حکام نے مشن کو ترقی، افراط زر، ترسیلات زر، برآمدات اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات پر بریفنگ دی۔آئی ایم ایف مشن سے صوبائی حکومتوں کے نمائندوں کی ملاقات بھی ہوئی ہے، جس میں بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی حتمی رپورٹ جلد مانگ لی، تاہم ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے سیلابی نقصانات کے باعث فی الحال سرپلس بجٹ کی نشاندہی سے انکار کردیا ہے اور اپنے وسائل ہی سے سیلاب متاثرین کی امداد کا عندیہ دے دیا ہے۔آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں سیلاب کے نقصانات کی تخمینہ رپورٹ تیارکی جا رہی ہے۔ سندھ میں 50 ارب اورخیبرپختونخوا میں 30 ارب روپے تک کے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ ہے جب کہ سیلاب سے صوبہ بلوچستان میں نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔بریفنگ میں عالمی ادارے کو مزید بتایا گیا کہ رواں مالی سال ترسیلات زرریکارڈ 43ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔ بجٹ میں ترسیلات زر کا ہدف 39۔4 ارب ڈالر رکھا گیا تھا۔ معاشی شرح نمو 4۔2 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3۔7 سے 4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔پنجاب،خیبرپختونخوا میں سیلاب کے بعد تعمیر نو کی سرگرمیوں کے لیے زیادہ ترسیلات زر آنے کا تخمینہ لگایا گیا۔ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں چاروں صوبوں نے 1464 ارب روپے کا بجٹ سرپلس دینا ہے۔ گزشتہ مالی سال سرپلس بجٹ میں 280 ارب روپے کی کمی آئی ہے۔ آئی ایم ایف کو دی گئی بریفنگ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2۔1 ارب ڈالر ہدف کے مقابلے ایک ارب ڈالر تک محدود رہنے کا امکان ہے۔بریفنگ میں مزید کہا گیاہے کہ برآمدات 35۔2 ارب ڈالر ہدف کے مقابلے 34۔2 ارب ڈالر تک ہو سکتی ہیں۔ رواں مالی سال درآمدات کا تخمینہ 65 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس سال مہنگائی کی شرح 7 فیصد تک جا سکتی ہے جب کہ ستمبرمیں مہنگائی 3۔5 سے 4۔5 فیصد کیدرمیان رہنے کا تخمینہ ہے اور سیلابی نقصانات کے باعث مہنگائی میں بتدریح اضافے کا خدشہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔