Nawaiwaqt:
2026-06-02@22:49:33 GMT

لاہور: سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں شادی کی تقریب

اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT

لاہور: سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی میں شادی کی تقریب

لاہور (نیٹ نیوز) چوہنگ میں سیلاب متاثرین کیلئے قائم خیمہ بستی میں شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ سیلاب متاثرہ دو خاندانوں نے اپنی اولادوں کے درمیان رشتہ استوار کیا۔21 سالہ طیبہ، جو پہلے ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں اور اب خیمہ بستی میں قائم الخدمت سکول میں بچوں کو پڑھاتی ہیں، اپنی سادگی اور مسکراہٹ کے ساتھ دلہن بنیں۔ شادی کی تقریب میں خیمہ بستی کے دیگر مکینوں سے بڑھ کر طیبہ کے شاگرد بچے شریک ہوئے۔ دلہن کے والد محمد ریاض، جو سیلاب کے دنوں میں اپنے6 بچوں کے ساتھ تھیم پارک میں بھی وقت گزارتے رہے تاکہ غم ہلکے ہوں، آج اپنی بیٹی کو سُرخ جوڑے میں دیکھ کر نمناک آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہے تھے۔ محمد ریاض نے کہا ہمارا سب کچھ پانی بہا لے گیا، لیکن یہ دن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ زندگی ابھی باقی ہے۔ اپنی بیٹی کو رخصت کر کے بہت زیادہ خوش ہوں۔ 26 سالہ دولہا علی رضا میڈیکل بیلنگ کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے شادی کے لمحے کو اپنی زندگی کا سب سے روشن دن قرار دیتے ہوئے کہا یہ بستی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کا گواہ بنی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: خیمہ بستی

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل