چوہنگ میں سیلاب متاثرین کیلیے قائم خیمہ بستی میں شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

خیمہ بسی میں ہر چہرے پر غم کی پرچھائیاں تھیں، وہاں ایک خیمے میں چوڑیوں کی کھنک اور ٹپوں کی آواز نے اداسی کو لمحوں کے لیے بھلا دیا۔

سب کچھ لٹ جانے کے بعد بھی محبت، رشتے اور امید کا چراغ روشن ہوا جب سیلاب متاثرہ دو خاندانوں نے اپنی اولادوں کے درمیان رشتہ استوار کیا۔

21 سالہ طیبہ، جو پہلے ایک فیکٹری میں کام کرتی تھیں اور اب خیمہ بستی میں قائم الخدمت اسکول میں بچوں کو پڑھاتی ہیں، اپنی سادگی اور مسکراہٹ کے ساتھ دلہن بنیں۔ شادی کی تقریب میں خیمہ بستی کے دیگر مکینوں سے بڑھ کر طیبہ کے شاگرد بچے شریک ہوئے۔

دلہن کے والد محمد ریاض، جو سیلاب کے دنوں میں اپنے 6 بچوں کے ساتھ تھیم پارک میں بھی وقت گزارتے رہے تاکہ غم ہلکے ہوں، آج اپنی بیٹی کو سرخ جوڑے میں دیکھ کر نمناک آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہے تھے۔

محمد ریاض نے کہا ہمارا سب کچھ پانی بہا لے گیا، لیکن یہ دن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ زندگی ابھی باقی ہے۔اپنی بیٹی کو رخصت کرکے بہت زیادہ خوش ہوں۔

26 سالہ دلہا علی رضا میڈیکل بیلنگ کے شعبے سے وابستہ رہے ہیں۔ انہوں نے شادی کے لمحے کو اپنی زندگی کا سب سے روشن دن قرار دیتے ہوئے کہا یہ بستی میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی کا گواہ بنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ طیبہ کو انہوں نے خمیہ بستی کے سکول میں بچوں کو پڑھاتے دیکھا۔ ان کی سادگی،حسن سلوک اور خوبصورتی سے انہیں متاثر کیا۔ 

دلہا کی والدہ کوثر بی بی نے جذباتی لہجے میں کہا یہاں سب لٹ گیا تھا، مگر دلوں میں محبت باقی رہی۔ آج ہم نے دکھوں کے بیچ خوشی کا چراغ جلایا ہے۔

تقریب میں دلہن کے خیمے میں روشنی، چوڑیاں اور دلہن کی بہنوں کے پنجابی ٹپے گونجتے رہے، جبکہ دلہے کے خیمے میں بھی بھرپور تیاری نظر آئی۔

زندہ دلانِ لاہور، متاثرہ خاندانوں کے رشتہ دار، اساتذہ، الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمے داران اور رضاکار شریک ہوئے اور اس منظر نے بستی کو ایک عارضی مگر یادگار خوشی سے بھر دیا۔

الخدمت فاؤنڈیشن نے نئے جوڑے کو کپڑوں، گھریلو سامان اور "شادی باکس" کا تحفہ دیا جبکہ مہمانوں کے لیے ضیافت کا خصوصی انتظام کیا گیا۔ دلہن کے والدین نے کہا ہمارا تمام سامان اور بچیوں کا جہیز سیلاب میں بہہ گیا تھا، لیکن مایوسی کے اندھیروں میں الخدمت ہمارے لیے چراغ بنی۔

اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ خیمہ بستی میں یہ شادی اس بات کی علامت ہے کہ کٹھن حالات میں بھی محبت، رشتے اور امید زندہ رہتے ہیں۔

یہ کہانی صرف دو خاندانوں کی نہیں بلکہ اُن سب لوگوں کی ہے جنہیں زندگی نے لٹا دیا، مگر انہوں نے دکھوں کے درمیان خوشیوں کے رنگ بکھیرنے کی ہمت نہیں چھوڑی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خیمہ بستی میں انہوں نے

پڑھیں:

مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں

پاکستانی اداکارہ مومنہ اقبال کے شوہر حمزہ حبیب کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ پاکستان کے مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھانے والی مومنہ اقبال حال ہی میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں۔ لاہور میں ان کی دعائے خیر ، مہندی ، مایوں اور نکاح کی تقریبات منعقد ہو چکی ہیں جن کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مومنہ اقبال کے دلہا حمزہ حبیب کا تعلق لاہور سے ہے، وہ کامیاب اور مالی طور پر مستحکم کاروباری شخصیت ہیں تاہم وہ ہمیشہ میڈیا کی نظروں سے دور رہے۔ حالیہ دنوں میں مومنہ اقبال کو (ن ) لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں کے معاملے پر حمزہ حبیب اپنی اہلیہ کی حمایت میں سامنے آنے کے بعد خبروں کا مرکز بن گئے۔ حمزہ حبیب کے مطابق ان کی اور مومنہ اقبال کی منگنی خاندانوں کی باہمی رضامندی سے ہوئی جب کہ دونوں خاندانوں کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات بھی ہیں۔ جوڑے نے مئی 2026 کے آخر میں ایک نجی تقریب میں نکاح کیا تھا۔ اس سے قبل اداکارہ مومنہ اقبال نے اپنی سوشل میڈیا سٹوری کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ ایک بااثر سیاسی شخصیت کی جانب سے انہیں اور ان کی فیملی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اپنی تحقیقات کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل