سیارہ زحل پر زندگی کے مزید آثار مل گئے، سائنسدانوں کے نزدیک اہم ترین پیشرفت
اشاعت کی تاریخ: 1st, October 2025 GMT
سائنسدانوں نے سیارہ زحل کے چھوٹے مگر دلچسپ چاند اینسیلیڈس پر برف کی تہہ کے نیچے چھپے سمندر میں زندگی کے لیے موزوں مزید اجزا دریافت کیے ہیں جو اس امکان کو تقویت دیتے ہیں کہ یہاں غیر ارضی زندگی یا خلائی مخلوق کے وجود کا امکان ہوسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناسا نے زمین جیسا سیارہ دریافت کر لیا
یہ تحقیق نیچر ایسٹرونومی جریدے میں شائع ہوئی ہے جس کے مطابق اینسیلیڈس کے زیر زمین سمندر میں پیچیدہ نامیاتی مالیکیولز کی موجودگی کا ثبوت ملا ہے۔ یہ وہ اجزا ہیں جنہیں زندگی کے بنیادی عناصر جیسے امینو ایسڈز کا پیش خیمہ سمجھا جاتا ہے۔
محض 500 کلومیٹر چوڑا اور انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والا اینسیلیڈس (Enceladus) زحل (Saturn) کے درجنوں چاندوں میں سے ایک ہے۔
مزید پڑھیے: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
طویل عرصے تک سائنسدانوں کا خیال تھا کہ سورج سے اتنی دوری کے باعث یہ چاند زندگی کے لیے موزوں نہیں ہو سکتا لیکن سنہ 2004 سے سنہ 2017 کے دوران ناسا کے کیسینی مشن نے کئی بار اس چاند کے قریب سے گزر کر حیرت انگیز انکشافات کیے۔
کیسینی نے دریافت کیا کہ اینسیلیڈس کی برفیلی سطح کے نیچے ایک نمکین پانی کا سمندر موجود ہے اور اس کے جنوبی قطب پر موجود دراڑوں سے پانی کے فوارے خلا میں خارج ہو رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’۔۔۔ ہم ہیں تیار چلو‘، ناسا نے چاند پر گاؤں اور مریخ پر قدم جمانے کا وقت بتادیا
ان میں شامل ننھے برفیلے ذرات جو ریت کے ذروں سے بھی چھوٹے تھے زحل کے ’ای رِنگ‘ میں شامل ہو رہے تھے جنہیں کیسینی نے اپنے کاسمک ڈسٹ اینالائزر سے ریکارڈ کیا۔
تحقیق کے نتائج اور مستقبل کی امیدیںتحقیق کے شریک مصنف فرینک پوسٹ برگ کے مطابق نئی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو نامیاتی مالیکیولز کیسینی نے زحل کے’ای رِنگ‘ میں دریافت کیے وہ خلا میں تبدیلی کا نتیجہ نہیں بلکہ اینسیلیڈس کے سمندر میں قدرتی طور پر موجود ہیں۔
زحل کے گرد موجود متعدد دائروں میں سے ’ای رِنگ (E Ring) ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ یہ نہ صرف زحل کے سب سے بیرونی حلقوں میں شمار ہوتا ہے بلکہ اپنے باریک، ہلکے اور نسبتاً دھندلے ذرات کی وجہ سے دوسرے حلقوں سے مختلف بھی ہے۔
ای رِنگ دراصل مکمل طور پر برفیلے ذرات پر مشتمل ہے جو زحل کے چاند اینسیلیڈس سے خارج ہوتے ہیں۔
اینسیلیڈس کے جنوبی قطب پر موجود برف کی دراڑوں سے جو پانی اور برف خلا میں پھوٹتی ہے، اس کے باریک ذرات زحل کے گرد گردش کرتے ہوئے اسی حلقے کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: ناسا نے سورج کی سرگرمیوں کی پیشگوئی کے لیے مصنوعی ذہانت کا سہارا لے لیا
یہی وجہ ہے کہ ای رِنگ کو اینسیلیڈس سے جڑا ہوا قدرتی تجربہ گاہ سمجھا جاتا ہے۔ جب ناسا کا خلائی مشن کیسینی اس حلقے سے گزرا تو اس نے ان برفیلے ذرات کو اپنے سائنسی آلات کے ذریعے جمع کیا جن میں زندگی کے لیے اہم نامیاتی اجزاء کی موجودگی سامنے آئی۔
چونکہ یہ ذرات براہ راست اینسیلیڈس کے اندرونی سمندر سے نکل کر خلا میں پہنچتے ہیں اس لیے ان کا تجزیہ سائنسدانوں کو اس چاند کے اندر موجود ممکنہ زندگی کی جھلک فراہم کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان مالیکیولز کی تصدیق اینسیلیڈس کی ممکنہ زندگی کے امکانات کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
وہاں زندگی نہ بھی ملی تب بھی معاملہ دلچسپفرانس کی ماہر کیمیا کیرولین فریسی نیٹ کے مطابق اگرچہ یہ کوئی حتمی ثبوت نہیں مگر زندگی کے معمے کا ایک اور اہم ٹکڑا ضرور ہے۔
یورپی خلائی ایجنسی پہلے ہی اینسیلیڈس پر مستقبل کی مشن کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ وہاں براہ راست زمین پر اتر کر نمونے لیے جا سکیں۔
مزید پڑھیں: کیا ہم اگلی دہائی میں خلائی مخلوق کا سراغ پا لیں گے؟
ماہرین کے مطابق اگر اس ماحول میں بھی زندگی نہ ملی تو یہ بھی ایک بڑی دریافت ہوگی کیونکہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ جب تمام شرائط موجود ہیں تو زندگی کیوں نہیں؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خلائی مخلوق سیارہ زحل سیارہ زحل پر زندگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خلائی مخلوق سیارہ زحل سیارہ زحل پر زندگی سیارہ زحل زندگی کے کے مطابق خلا میں زحل کے کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔