پانچ سال تک استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 2 October, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )وفاقی حکومت نے یکم اکتوبر سے 5 سال تک استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے، اس حوالے سے ایف بی آر نے کابینہ کی منظوری سے نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا۔خبر رساں ادارے ڈیلی ٹائمز کے مطابق وفاقی حکومت نے کابینہ کی منظوری کے بعد استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی نافذ کر دی ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اس فیصلے کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیوٹی پہلے سے عائد تمام درآمدی ٹیکسوں کے علاوہ وصول کی جائے گی۔ یہ اضافی ڈیوٹی 30 جون 2026 تک نافذ رہے گی۔ اس کے بعد ہر سال 10 فیصد کمی کی جائے گی اور بالآخر 30 جون 2029 تک اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔حکومتی حکام کے مطابق اس مرحلہ وار کمی کا مقصد قلیل مدتی ریونیو کو مستحکم رکھنا اور طویل مدت میں آٹو مارکیٹ کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزارتِ تجارت پہلے ہی درآمدی پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کرتے ہوئے استعمال شدہ گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی اجازت دے چکی ہے۔ نئی پالیسی کے تحت ابتدائی طور پر صرف 5 سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت ہوگی جو 30 جون 2026 تک برقرار رہے گی۔ اس کے بعد عمر کی پابندی ختم کر دی جائے گی اور پرانی گاڑیوں کی درآمد بھی ممکن ہو سکے گی۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ درآمد شدہ گاڑیوں کی اجازت ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات پر سختی سے عمل درآمد سے مشروط ہوگی۔ حکام کے مطابق اس شرط کا مقصد روڈ سیفٹی بہتر بنانا اور فضائی آلودگی میں کمی لانا ہے تاکہ ملک میں آنے والی گاڑیاں جدید کارکردگی کے تقاضوں پر پوری اتریں۔

قابلِ ذکر ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 24 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں اس پالیسی کی منظوری دی تھی۔حکومتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد صارفین کی بڑھتی ہوئی طلب اور اقتصادی تقاضوں میں توازن پیدا کرنا ہے کیوں کہ نئی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے نے متوسط طبقے کے خریداروں کو شدید متاثر کیا ہے۔ حکومتی پالیسی کا مقصد استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد کو منظم کرنا اور مقامی آٹو انڈسٹری کے مفادات کے ساتھ ساتھ صارفین کو زیادہ آپشنز فراہم کرنا ہے تاہم اضافی ریگولیٹری ڈیوٹی کے باعث درآمدی گاڑیوں کی قیمتیں فوری طور پر بڑھنے کا خدشہ ہے، جب کہ مرحلہ وار کمی سے آئندہ برسوں میں یہ گاڑیاں نسبتا سستی ہونے کا امکان ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایس آئی ایف سی کی ترک سرمایہ کاروں کو کراچی میں ہزار ایکڑ پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنانے کی پیشکش ایس آئی ایف سی کی ترک سرمایہ کاروں کو کراچی میں ہزار ایکڑ پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون بنانے کی پیشکش پاکستان انڈر 12 ٹینس ٹیم نے انٹرکونٹینینٹل چیمپئن شپ کیکوارٹر فائنل کیلئیکوالیفائی کرلیا ہالی وڈ اداکاروں، فلمسازوں سمیت 3900 سے زائد فنکاروں کا اسرائیلی فلمی اداروں کے بائیکاٹ کا اعلان سلامتی کونسل غزہ میں جاری خونریزی روکنے میں ایک بار پھر ناکام رہی، پاکستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے عہدے سے استعفی دے دیا وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سیاحتی امور سردار یاسر الیاس خان کی چیئر مین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا سے ملاقات TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی سال تک

پڑھیں:

ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار

اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔

ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ