آئرلینڈ کے صدر کی عالمی برادری کو جھنجھوڑنے کی اپیل، صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈبلن: آئرلینڈ کے صدر مائیکل ہیگنز نے اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں غزہ جانے والی عالمی صمود فلوٹیلا پر حملے اور غزہ سٹی میں اہم شاہراہوں کی بندش کو پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دے دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس آئرلینڈ کے صدر نے کہا کہ جب عالمی برادری فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کو خطے میں امن کا بنیادی حل مانتی ہے تو پھر یہ عہد کہاں کھو گیا ہے کہ امداد لے کر جانے والی کشتی کو بھی اپنے انسانی مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جا رہا۔
مائیکل ہیگنز نے کہا کہ کارکنان کی سلامتی اور ان ممالک کے شہریوں کے تحفظ کا معاملہ اب پوری دنیا کا مسئلہ ہے، شمالی غزہ سے نکلنے کے راستے بند ہونے سے وہاں کے بے سہارا عوام مسلسل بمباری اور گھروں کی تباہی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کے ادارے بھی اپنے کام جاری نہیں رکھ پا رہے، ریڈ کراس نے بدھ کو اعلان کیا کہ وہ غزہ سٹی میں اپنا آپریشن بند کر کے عملے کو جنوبی غزہ منتقل کر رہا ہے۔ یہ اقدام اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں شدت کے باعث کیا گیا۔
خیال رہےکہ اسرائیلی بحریہ نے 80 ناٹیکل میل (148 کلومیٹر) کے فاصلے پر غزہ کے قریب پہنچنے والی بین الاقوامی امدادی فلوٹیلا پر حملہ کیا اور جہازوں پر سوار درجنوں کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ ان کارکنان کا تعلق دنیا کے 50 ممالک سے تھا، جو خوراک، ادویات اور دیگر ضروری امداد لے کر غزہ جا رہے تھے۔
غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائم انٹرنیشنل کمیٹی فار بریکنگ دی سیج آن غزہ (ICBSG) نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی بحریہ نے نہ صرف جہازوں کو زبردستی روکا بلکہ ایک بحری جہاز کو ٹکر ماری، واٹر کینن کا استعمال کیا اور کارکنان کو تشدد کے ساتھ حراست میں لیا۔ کمیٹی نے اسے پرامن مظاہرین کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا۔
غزہ کی انتظامیہ نے اسرائیلی اقدام کونسل کشی کی پالیسی کے تحت من مانا نفاذ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے لاکھوں بے گھر شہریوں کو مزید خطرات میں ڈال دیا ہے جو بمباری اور تباہی سے پہلے ہی محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں دربدر ہیں۔
واضح رہے کہ غزہ گزشتہ 18 برس سے اسرائیلی محاصرے میں ہے اور مارچ 2025 میں اسرائیل نے تمام بارڈر کراسنگ بند کر کے غذائی اجناس اور ادویات کی ترسیل روک دی تھی، جس سے قحط جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی بمباری میں 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ غزہ ناقابلِ رہائش بنتا جا رہا ہے، جہاں بھوک، بیماری اور موت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
یاد رہے کہ غزہ میں امداد کے نام پر امریکا اور اسرائیل دہشت گردی کر رہے ہیں، عالمی طاقتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں جبکہ مسلم حکمران بھی بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر