غزہ پر اسرائیلی حملے، ایک دن میں 57 فلسطینی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ سے جمعرات کو کم از کم 57 فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔
وزارتِ صحت کے مطابق یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئیں جب حماس اب بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگ بندی کی مجوزہ منصوبہ بندی پر غور کر رہی ہے۔
امریکی تجویز کے تحت حماس کو تمام 48 یرغمالیوں کو واپس کرنا ہوگا، اقتدار اور اسلحہ چھوڑنا ہوگا، جس کے بدلے میں سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور لڑائی کا خاتمہ کیا جائے گا۔
اس منصوبے کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے قبول کرلیا ہے، لیکن اس میں فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی عوام جنگ کے خاتمے کے خواہاں ہیں لیکن زیادہ تر کا خیال ہے کہ یہ منصوبہ اسرائیل کے حق میں زیادہ جھکاؤ رکھتا ہے۔
حماس کے ایک عہدیدار نےبتایا کہ منصوبے کے کچھ نکات ناقابلِ قبول ہیں۔ قطر اور مصر، جو اس مذاکراتی عمل میں اہم ثالث ہیں، کا کہنا ہے کہ مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔
ادھر اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی حصے میں ناصر ہسپتال کے مطابق 29 فلسطینیوں کو فائرنگ سے ہلاک کیا، جن میں سے 14 افراد اس فوجی راہداری میں مارے گئے جہاں امدادی سامان کی تقسیم کے دوران اکثر فائرنگ ہوتی رہتی ہے۔
وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں الاقصیٰ شہدا اسپتال نے 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی۔
بین الاقوامی ادارہ ڈاکٹرز وِدآؤٹ بارڈرز نے بتایا کہ اس کے ایک معالج عمر حائق کو دیر البلح میں بس کا انتظار کرتے ہوئے ایک فضائی حملے میں مارا گیا جبکہ 4 دیگر زخمی ہوئے۔
عمر حائق اس جنگ میں جاں بحق ہونے والے تنظیم کے 14ویں کارکن تھے۔
غزہ سٹی میں شفا اسپتال کو بھی پانچ لاشیں اور متعدد زخمی موصول ہوئے، لیکن عملے کو ہسپتال پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ اسرائیل نے شہر پر بڑے پیمانے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔
دیگر اسپتالوں نے مزید 7 ہلاکتوں کی اطلاع دی ہے، اسرائیلی فوج نے فی الحال ان ہلاکتوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
اس دوران اسرائیل نے اس امدادی فلوٹیلا کو بھی روک دیا ہے جس میں 40 سے زائد کشتیاں علامتی انسانی امداد کے ساتھ غزہ کا محاصرہ توڑنے کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔
اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق جہازوں پر موجود سرگرم کارکن، جن میں سویڈن کی ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ اور یورپی ارکانِ پارلیمنٹ بھی شامل ہیں، کو محفوظ حالت میں اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ ان کی ملک بدری کے اقدامات کیے جائیں۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج نے ایک فلسطینی عسکریت پسند کو ہلاک اور دوسرے کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
فوج کے مطابق یہ دونوں ایک چیک پوسٹ پر کار سے حملہ آور ہوئے تھے تاہم کوئی اسرائیلی فوجی زخمی نہیں ہوا۔
غزہ میں جاری اسرائیلی مہم کے نتیجے میں اب تک وزارتِ صحت کے مطابق 66 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور تقریباً 1 لاکھ 70 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔
وزارت کے مطابق ہلاکتوں میں نصف خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ اور آزاد ماہرین ان اعداد و شمار کو نسبتاً معتبر قرار دیتے ہیں۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ غزہ سٹی کے باقی شہری شہر کو خالی کر دیں، ورنہ انہیں عسکریت پسندوں کے حامی تصور کیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس عسکریت پسند غزہ فلسطین مغربی کنارے نیتن یاہو وزیر دفاع.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل عسکریت پسند فلسطین نیتن یاہو وزیر دفاع اسرائیلی فوج کے مطابق
پڑھیں:
فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہےکہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں وزیراعظم نے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے بزدلانہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔
وزیراعظم نے محمد بن سلمان سے گفتگو میں کہا کہ ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں، یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، ایسے اقدامات جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور ایسے اقدامات علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
وزیراعظم نے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ میں، فیلڈ مارشل اور پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت، برادر عوام کے ساتھ مضبوطی، عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور خوشحالی کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان امن وسلامتی اور استحکام کے لیے مملکت و عالمی برادری کےساتھ تعاون جاری رکھے گا، پاکستان بحیرہ احمر، آبنائےہرمز اور سمندری تجارت کی بلاتعطل روانی کے لیے قریبی تعاون جاری رکھے گا۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
وزیراعظم نےخادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے لیے نیک خواہشات اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا جب کہ اس موقع پر سعودی ولی عہد نے پاکستان کی مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی برادرانہ تعلقات کو سراہا۔
مزید :