اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کا مرکزی راستہ بند کر دیا، آخری وارننگ دیدی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ:۔ اسرائیلی ٹینکوں نے جمعرات کو غزہ شہر جانے والی مرکزی سڑک بند کردی، جس کے بعد شہر چھوڑ کر جانے والے شہریوں کو واپس آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتس نے کہا ہے کہ یہ غزہ شہر میں پھنسے لاکھوں افراد کے لیے نکلنے کا آخری موقع ہے۔ اسرائیل نے غزہ شہر کی پوری آبادی، جو تقریباً دس لاکھ افراد پر مشتمل ہے، کو جنوب کی طرف جانے کی ہدایت دی ہے تاکہ شہر میں حماس کے آخری گڑھ کو ختم کیا جا سکے۔
عینی شاہدین نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ شہر سے جنوب جانے والے راستے پر ریت کی رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دی جا رہی ہے لیکن جو لوگ خوراک یا پناہ کی تلاش میں شہر سے نکلے تھے، انہیں واپس داخلے سے روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع کاتس نے بیان میں کہا ہے کہ یہ غزہ کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے کہ وہ جنوب کی طرف نکل جائیں اور حماس کے جنگجوو ¿ں کو غزہ شہر میں تنہا چھوڑ دیں تاکہ اسرائیلی فوج مکمل آپریشن جاری رکھ سکے۔
اقوام متحدہ کے مطابق غزہ شہر میں اب بھی 6 سے 7 لاکھ افراد موجود ہیں، جبکہ گزشتہ چند ہفتوں میں تقریباً 4 لاکھ شہری شہر چھوڑ چکے ہیں۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں نے طبی نظام کو مفلوج کر دیا ہے اور چار اسپتال بند ہو چکے ہیں۔ غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفا میں خدمات محدود کر دی گئی ہیں جبکہ مریض شدید خوف میں ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیلی حملوں میں کم از کم 77 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ جمعرات کو ایک حملے میں نو افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد شامل تھے۔اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اس کا مقصد “نتساریم کوریڈور” پر مکمل کنٹرول قائم رکھنا ہے جو غزہ کے شمال اور جنوب کو تقسیم کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک