ایمریٹس نے اپنی پروازوں میں پاور بینک ساتھ رکھنے کی پابندی کیوں لگائی؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
ایمریٹس ایئرلائن نے یکم اکتوبر 2025 سے اپنے تمام جہازوں میں پاور بینک کے استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔
مسافروں کو صرف ایک پاور بینک ساتھ لے جانے کی اجازت ہوگی، جس کی طاقت 100 واٹ آور (Wh) سے کم ہو، لیکن پرواز کے دوران اس کا استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
کیوں لگائی گئی پابندی؟ایئرلائن کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریز (پاور بینک) آگ لگنے اور دھماکے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں پچھلے برسوں کے دوران کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن میں پاور بینک سے جہاز کے اندر آگ بھڑک گئی۔ اسی خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایمریٹس نے یہ فیصلہ کیا۔
نئی پابندی کی شرائط
ایمریٹس نے واضح کیا ہے کہ مسافروں کو صرف ایک پاور بینک ساتھ رکھنے کی اجازت ہوگی، جس کی طاقت 100 واٹ آور سے کم ہو۔ تاہم، اس پاور بینک کو پرواز کے دوران کسی بھی ڈیوائس کو چارج کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا اور نہ ہی اسے جہاز کے پاور سورس سے چارج کیا جا سکے گا۔
پاور بینک کو چیک ان بیگیج میں رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ اسے صرف سیٹ کی جیب یا سیٹ کے نیچے رکھے گئے بیگ میں رکھا جا سکتا ہے، اوور ہیڈ لاکر میں نہیں۔مسافروں کے لیے ہدایات
ایمریٹس نے مسافروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی ڈیوائسز (موبائل، لیپ ٹاپ وغیرہ) کو فل چارج کر کے سفر پر آئیں تاکہ طویل پروازوں کے دوران کسی مشکل کا سامنا نہ ہو۔
یاد رہے کہ ایوی ایشن اداروں کے مطابق لیتھیم آئن بیٹریز کو ’خطرناک سامان‘ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ ان میں ’تھرمل رن اَووے‘ (بے قابو گرم ہونا) کا خطرہ ہوتا ہے، جو آگ یا دھماکے کا باعث بن سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایئرلائن ایمریٹس پاور بینک تھرمل رن اَووے لیتھیم آئن بیٹریز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرلائن ایمریٹس پاور بینک لیتھیم آئن بیٹریز
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :