چین اور سنگاپور اہم تعاون کرنے والے شراکت دار ہیں، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 3 October, 2025 سب نیوز

بیجنگ : چین کے صدر شی جن پھنگ اور سنگاپور کے صدر تھرمن شنموگارتنم نے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کی 35ویں سالگرہ کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے۔جمعہ کے روز چینی میڈیا کے مطابق شی جن پھنگ نے اپنے پیغام میں کہا کہ چین اور سنگاپور نہ صرف دوستانہ پڑوسی ہیں بلکہ اہم تعاون کرنے والے شراکت دار بھی ہیں۔ گزشتہ 35 برسوں میں دونوں ممالک نے باہمی احترام و اعتماد اور تعاون پر مبنی باہمی مفاد کے اصولوں پر کاربند رہتے ہوئے تعلقات کو مسلسل بہتر اور اعلیٰ درجے تک پہنچایا ہے

اور مختلف شعبوں میں تعاون کے شاندار نتائج حاصل کیے ہیں۔ فریقین نے اپنی اپنی جدیدیت کی کوششوں میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما ہے، جس سے دونوں ممالک کے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ چین اس سالگرہ کو ایک موقع کے طور پر لیتے ہوئے سنگاپور کے ساتھ سیاسی باہمی اعتماد کو مزید گہرا کرنے، اعلیٰ سطحی تعاون کو آگے بڑھانے، افرادی و ثقافتی تبادلوں کو مزید قریبی بنانے اور کثیرالجہتی تجارتی نظام اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کا مشترکہ طور پر تحفظ کرنے کا خواہاں ہے،

تاکہ چین۔سنگاپور ہمہ جہتی، اعلیٰ معیار اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کو مزید ترقی دے کر خطے اور دنیا کے امن و خوشحالی کے لیے زیادہ بڑا کردار ادا کیا جا سکے۔صدر شنموگارتنم نے اپنے پیغام میں کہا کہ 2023 میں سنگاپور اور چین کے تعلقات کو ہمہ جہتی، اعلیٰ معیار اور مستقبل پر مبنی شراکت داری کے درجے پر ترقی دی گئی۔ دونوں حکومتوں کے درمیان تعاون کے منصوبے مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں، نئے پہلو اور خصوصیات شامل ہو رہی ہیں اور یہ تعلقات مستقبل بینی کو ظاہر کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے وقت کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے شعبوں میں تعاون کو فعال طور پر وسعت دی ہے اور عوام کے درمیان افرادی و ثقافتی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ سنگاپور اور چین دونوں قریبی تعاون جاری رکھتے ہوئے اپنے دو طرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔اسی روز چین کے وزیراعظم لی چھیانگ اور سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ نے بھی ایک دوسرے کو مبارکباد کے پیغامات بھیجے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغزہ کے رہائشیوں کے لیے آخری موقع ہے وہ اس شہر سے نکل جائیں، اسرائیلی وزیر دفاع کی پھر دھمکی پاکستانی ہمالیائی نمک سے تیار صابن نے عالمی ایوارڈ اپنے نام کرلیا آئی ایم ایف کا 10اداروں کے قوانین میں ترامیم نہ لانے پر تحفظات کا اظہار، حکومت سے وضاحت طلب مسلسل اضافے کے بعد سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی آگئی چین ، ای چوانگ جامع کسٹم فری زون غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مقام بن گیا چین کے قومی دن اور وسط خزاں تہوار کی تعطیلات کے دوران نقل و حمل کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور سنگاپور

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسکردو: سیلفی بناتے کچورا جھیل میں گرے موبائل کو نکالتے ہوئے نوجوان گر کر جاں بحق
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا