امریکی سائنس دانوں نے بجلی پیدا کرنے والا کنکریٹ تیار کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, October 2025 GMT
امریکی سائنس دانوں نے ایک نیا کنکریٹ تیار کیا ہے جس سے بنی عمارتیں اور سڑکیں گھروں کو اور برقی گاڑیوں کو فراہم کرنے والی بیٹریوں کے طور پر کام کرسکیں گی۔
میساچوسیٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے سائنس دانوں (جنہوں نے 2023 میں جدید جنریشن کا انرجی اسٹوریج سسٹم پہلی بار دریافت کیا تھا) نے کچھ ایسا دریافت کیا ہے جس سے یہ سسٹم 10 گُنا مزید طاقتور بن جائے گا۔
اس دریافت کا مطلب ہے کہ ایک اوسط گھر کو اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تقریباً 5 مکعب میٹر مٹیریل کی ضرورت ہوگی۔
یہ کنکریٹ بیٹری سمنٹ، پانی، کاربن بلیک اور الیکٹرولائٹ سے مل کر کام کرتی ہے۔ یہ مرکبات مل کر مٹیریل کے اندر بجلی ذخیرہ کرنے اور خارج کرنے کے لیے کنڈکٹیو ’نینونیٹورک‘ بناتے ہیں۔
ایم آئی ٹی کے سول اور انوائرنمنٹل انجینئرنگ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور کو-ڈائریکٹر ایڈمِر میسک کا کہنا تھا کہ کنکریٹ کی پائیداری کے لیے ایسا کنکریٹ بنانا ہوگا جو توانائی ذخیرہ کرنے، اپنی مرمت خود کرنے اور کاربن جذب کرنے جیسی متعدد صلاحیت رکھتا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ کنکریٹ دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا تعمیراتی مٹیریل ہے، اس لیے اس سے دیگر فوائد حاصل کرنے چاہیئے ہوں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔