Express News:
2026-06-03@01:40:36 GMT

لال اور عبداللہ جان

اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT

کوئی کچھ بھی کہے سوچے،سمجھے یا بولے ہم تو اس کہاوت کے قائل ہیں کہ تلوار چلاؤ تو اپنوں کے لیے لیکن بات کرو تو خدا کے لیے۔جیسے قربانی خدا کے لیے اور کھال شوکت خانم کے لیے یا کماؤ تو اپنے لیے اور بولو تو بانی اور وژن کے لیے۔ چنانچہ سارے واقعات، واردات،بیانات اور’’بیرسٹروں‘‘ کی اطلاعات سے ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمارے صوبے کے پی کے خیر پخیر کی حکومت کو اب چھٹی یا پولیس کی اصطلاح کے مطابق ’’شاباشی‘‘ دینی چاہیے۔کیونکہ پانچ سال کا کام اس نے دو سال میں پورا کرلیا ہے جو کچھ کرنا تھا وہ سب کچھ ہوچکا بلکہ جو نہیں کرتا تھا وہ بھی ہوچکا ہے۔

ادارے اور محکمے’’ٹریک‘‘ پر ڈال دیے گئے ہیں، تبادلوں اور تقرریوں کے ذریعے ہر شاخ پر مناسب  ’’پرندے‘‘ بٹھائے جا چکے ہیں، منتخب’’ جمہوری شہنشاہ‘‘ اپنی اپنی کٹ میں آنے والوں کو دسترخوان پر بٹھا چکے ہیں، مطلب یہ کہ’’بانی‘‘ کا’’وژن‘‘ وژولائز ہوچکا ہے، اس لیے شاباشی یا چھٹی تو اس کی بنتی ہے انصاف بلکہ تحریک انصاف کی، بات بھی یہی ہے کہ جو اپنا کام پورا کرے اسے چھٹی اور شاباشی دونوں ملنی چاہیے کیونکہ یہ تو مکتب سیاست ہے، کوئی’’مکتب عشق‘‘ نہیں کہ ’’ اسے چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا‘‘ مکتب سیاست میں چھٹی ملنا ضروری ہے کیونکہ اس مکتب کے طالب علم ’’عبداللہ جان‘‘ ہوتے ہیں۔اب لال اور عبداللہ جان کا نام لے لیا ہے تو کہانی بھی سنانا پڑے گی۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب پاکستان ایک زرعی ملک ہوا کرتا تھا۔اب تو خدا کے فضل سے حکومتوں کی مہربانی سے،لیڈروں کی محنت سے اور ہر حکومت کی نئی نئی پالیسیوں اور تجربوں سے یہ ملک صنعتی بھی تجارتی بھی ہے۔جمہوری بھی ہے سیاسی بھی ہے خاندانی بھی ہے اور سائنسی مذہبی اور گینگسٹر بھی ہوگیا ہے لیکن اس زمانے میں یہ زرعی ہوا کرتا تھا اور حکومتیں ’’اگلے سال‘‘ گندم میں چاول میں چینی میں خود کفیل ہونے کی خوش خبریاں سنایا کرتی تھیں۔

اس وقت کے خصوصی اپنے خصوصی کی خصوصیات نشر کرتے جیسے کہ آج کل’’بانی‘‘ اور’’وژن‘‘ کی۔چنانچہ ہمارے علاقے میں ایک سیزن ایسا آتا تھا کہ کھیتوں میں کام بہت بڑھ جاتا تھا۔ان کھیتوں میں جہاں آج کل کالونیاں،ٹاؤن شپ اور سمنٹ اور سریے کے جنگل لہلہا رہے ہیں۔

چنانچہ اوپر کے پہاڑی علاقوں سے لوگ مزدوری کے لیے آجاتے تھے۔عام مزدور تو دیہاڑی پر کام کرتے تھے صبح سے دوپہر تک دیہاڑی ہوتی تھی لیکن’’لال‘‘ اور’’عبداللہ‘‘ دو بھائی دیہاڑی نہیں کرتے تھے بلکہ کام ٹھیکے پر لے لیتے تھے، مالک سے کوئی کام پانچ دہاڑی پر لیے لیتے تھے اور دو دن میں کام ختم کردیتے تھے، یوں وہ ایک ایک دن میں کبھی دو کبھی تین دہاڑیاں کما لیتے تھے، اگر سیزن دو مہینے پر رہتا تو وہ دو مہینے میں چار مہینے کی کمائی کرلیتے تھے، وجہ یہ تھی کہ وہ دونوں بڑے مضبوط، جفاکش اور ان تھک تھے، ہماری موجودہ صوبائی حکومت کی طرح۔ یوں ہم ان لال اورعبداللہ جان کو آج کے ’’بانی‘‘ اور’’وژن‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں اور ہماری یہ جو صوبائی حکومت ہے اس نے بھی’’بانی‘‘ اور’’وژن‘‘ کی برکت سے پانچ سال کا کام دوسال میں ختم کر ڈالا ہے۔ اور یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں ہم تو آج کل

ہم وہاں ہیں جہاں سے ہم کو بھی

خود ہماری خبر نہیں آتی

لیکن ’’بیان نامے‘‘ یوں آتے ہیں جن کو اگلے زمانوں میں ’’اخبار‘‘ کہا کرتے ہیں اور ان بیان ناموں میں سب سے مستقل سب سے موثق اور سب سے معتبر و مستند بیان معاون خصوصی کے بیان ہوتے ہیں۔ان موثق،معتبر اور بالکل سچے مچے بیانات سے ہی پتہ چلا ہے کہ بانی اور وژن یا لال و عبداللہ نے پانچ دیہاڑیوں کا کام دو دیہاڑیوں میں ختم کرڈالاہے، سارا صوبہ سب کچھ میں خودکفیل ہوچکا ہے۔کوئی بیمار نہیں رہا ہے کوئی بیروزگار نہیں رہا ہے اور کوئی ناانصافی کا شکار نہیں رہا ہے۔

سوائے ایک کام کے کہ چین سے چین کی بانسریاں بس پہنچنے والی ہیں جو عوام میں تقسیم کرکے بجوائی جائیں گی۔لیکن اور ایک ضمنی سوال یہ پیدا ہوا کہ موجودہ ’’کام تمام‘‘ حکومت جائے گی کہاں یعنی۔ ’’کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد‘‘۔کیونکہ سب کام کرنے،کام دکھانے اور کام تمام کرنے والے لوگ ہیں، بیکار بھی تو نہیں بیٹھ سکتے۔’’یک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے‘‘۔اور پھر’’بانی‘‘ اور وژن کی برکت سے لال اور عبداللہ جان بھی ہیں۔تواس کا ایک حل بھی ہمارے پاس موجود ہے اسی موثق، معتبر اور سچے مچے ذریعے سے پتہ چلا ہے کہ پڑوسی صوبہ نہایت ہی بُرے حال میں ہے کیونکہ جدی پشتی حکمرانوں نے صوبے کو اتنا برباد کر ڈالا ہے کہ صوبے کے سارے لوگ نقل مکانی کرکے کسی سیارے پر چلے گئے ہیں۔ اور اگر یہ ہمارے چھٹی اور شاباشی کا مستحق لال اور عبداللہ جان کو وہاں بھیجا جائے اور یہ بانی اور وژن کا نام لے کر کام شروع کردیں تو آنے والے دو سالوں میں پچھلے پانچ سالوں کا کام ممکن ہوسکتا ہے اور صوبہ بچ سکتا ہے ورنہ ممکن ہے پنجاب پاکستان کا سب سے پسماندہ ترین صوبہ بن جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: لال اور عبداللہ جان اور وژن ہیں کہ بھی ہے کے لیے کا کام

پڑھیں:

اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات

راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔

جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔

دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔

ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔

مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر

اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم