کراچی: عمارت سے بزرگ شخص کی لاش اور خاتون بے ہوشی کی حالت میں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
گلشن اقبال میں واقعے رہائشی عمارت عثمان پلازہ سے بزرگ شخص کی لاش اور ایک خاتون بے ہوشی کی حالت میں ملی ہے۔
ایدھی حکام کے مطابق خاتون کی حالت تشویشناک ہے جسے فوری طبی امداد کے لیے جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔
ایدھی حکام کا کہنا ہے کہ متوفی ضعیف شخص اور بے ہوش خاتون کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی، اسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی معائنے میں بزرگ کی موت کی وجہ طبعی معلوم ہوتی ہے تاہم حتمی رائے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔
ایس ایچ او تھانہ گلشن اقبال کے مطابق ضعیف شخص کی لاش اور بے ہوش خاتون رہائشی عمارت کے تیسرے فلور پر فلیٹ سے ملے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق متوفی اور بے ہوش خاتون بھائی بہن بتائے جارہے ہیں۔ تاہم واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے اور جاں بحق شخص و خاتون کی شناخت کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
گلشن اقبال تھانہ کے تفتیشی افسر نے بتایا کہ ابتدائی اطلاع کے مطابق جاں بحق ہونے والے شخص کی شناخت 76 سالہ اقبال الدین اور بے ہوش خاتون کی امینہ کے ناموں سے ہوئی۔
دونوں بھائی بہن ہیں، بھائی کی بیرون ملک روانگی تھی تاہم طعبیت خرابی کے باعث ان کی حالت خراب ہوگئی اور وہ جاں بحق ہوگئے۔بھائی کی خراب حالت کو دیکھ کر بہن بے ہوش ہوگئی۔تاہم طبعی امداد کی فراہمی کے بعد خاتون ہوش میں آگئی یے، پولیس واقعہ کی مذید تفتیش کررہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اور بے ہوش خاتون کے مطابق خاتون کی کی حالت شخص کی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔