چینی درآمد کرنا کسانوں اور ملکی انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، شوگر ملز ایسوسی ایشن
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے مزید چینی درآمد نہ کرنے کے حکومتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ چینی درآمد کرنا کسانوں اور ملکی انڈسٹری کو سراسر تباہ کرنے کے مترادف ہے۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے بیان میں کہا کہ شوگر انڈسٹری شروع سےکہہ رہی ہے کہ ملک میں چینی کے وافر اسٹاک ہیں، چینی درآمد کرنا سراسر کسانوں اورملکی انڈسٹری کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، حکومت 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا آرڈر دے چکی ہے جس کی شروع سے ہی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت نے اس بابت انڈسٹری کی اپیلوں کو یکسر نظر انداز کر دیا، 18 نومبر تک ملک میں چینی کے وافراسٹاکس موجود ہیں۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ شوگر انڈسٹری کو مالی بحران سے نکلنے کے لیےان اسٹاکس کا ختم ہونا ضروری ہے، کسانوں کی فصلوں میں ابھی تک سیلابی پانی کھڑا ہے، جب تک پانی ختم نہیں ہوتا گنے کی کٹائی کیونکر ممکن ہو پائے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ درآمدی چینی ٹیکس اور ڈیوٹی فری سبسڈی کے ساتھ منگوائی جا رہی ہے، حکومت متعدد بار ملوں کا ایف بی آر پورٹل بند کرتی ہے تا کہ درآمد کی گئی چینی فروخت ہوسکے ۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ حکومت سے التماس ہے کہ کسانوں اور انڈسٹری کی بہتری کا سوچتے ہوئے مثبت فیصلے کرے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی درا مد انڈسٹری کو کرنے کے
پڑھیں:
وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔