اٹلی؛ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کیخلاف 20 لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اٹلی کی سب سے بڑی مزدور یونین CGIL کے ملک بھر میں ایک روزہ عام ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں میں تقریباً 20 لاکھ افراد نے حصہ لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مظاہرے اسرائیل کی جانب سے فلسطین جانے والی امدادی کشتیوں کے قافلے "صمود فلوٹیلا" کو روکنے اور غزہ پر جاری شدید بمباری کے خلاف تھے۔
لاکھوں افراد نے ملک بھر کے تمام ہی بڑوں شہروں میں "فلسطین آزاد کرو، جنگ بند کرو، اسرائیلی جارحیت مردہ باد" کے نعروں کے ساتھ مارچ کیا۔
روم میں پولیس کے مطابق 80,000 افراد سڑکوں پر نکلے، جبکہ منتظمین نے تعداد 3 لاکھ بتائی۔
میلان میں بھی مظاہرین کی تعداد 80 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان بتائی جا رہی ہے جس میں اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
اسی طرح تورین، جینوا، ناپلی، بولونیا اور فلورنس سمیت 100 سے زیادہ شہروں میں بھی جلوس نکالے گئے۔
مظاہرین نے سڑکیں، ریل لائنیں اور ہوائی اڈے بند کر دیے گئے۔ پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں جب کچھ مظاہرین نے ہائی وے بند کر دی۔
جس کے باعث پیزا ایئرپورٹ پر مظاہرین رن وے پر گھس گئے، جس کے باعث پروازیں کچھ وقت کے لیے معطل رہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی بحریہ نے بدھ اور جمعرات کو گلوبل صمود فلوٹیلا کی 43 کشتیوں کو یرغمال اور اس میں سوار 500 رضاکاروں کو گرفتار کرلیا تھا۔
گرفتار سماجی کارکنوں میں سے 40 کا تعلق اٹلی سے تھا جن میں سے 4 کو ابتدائی طور پر اسرائیل نے ڈی پورٹ کرکے واپس ان کے وطن بھیج دیا ہے۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ فلوٹیلا حماس سے منسلک ہے لیکن مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دراصل غزہ پر عائد ظالمانہ ناکہ بندی کو مزید سخت کرنے کے مترادف ہے۔
اٹلی کی اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما ایلی شلائن نے کہا کہ یہ فلوٹیلا وہ کر رہی تھی جو یورپ کو کرنا چاہیے تھا یعنی اسرائیلی محاصرے کو توڑ کر غزہ کے عوام تک امداد پہنچانا۔
انھوں نے مطالبہ کیا کہ اٹلی بھی اسپین کی طرح اسرائیل پر ہتھیاروں کی پابندی لگائے اور فوری طور پر فلسطین کو تسلیم کرے۔
خیال رہے کہ قبل ازیں اٹلی کی وزیرِاعظم جیورجیا میلونی نے فلوٹیلا کو "خطرناک اور غیر ذمہ دارانہ" اقدام قرار دیا تھا جس پر عوامی ردعمل مزید شدید ہوا۔
یاد رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری نے اب تک ہزاروں افراد کو شہید اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا ہے جب کہ خوراک اور ادویات کی قلت بدترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق اسرائیل کا یہ محاصرہ اور جنگی کارروائیاں اجتماعی سزا کے مترادف ہیں، جس سے 20 لاکھ محصور فلسطینی براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔