بجلی کا نیا کنکشن لینے والوں کے لیے بڑی شرط عائد، جانئے اب کیا کرنا ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) نے صارفین کے لیے نیا اور شفاف نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اب بجلی کے تمام نئے یا بحال شدہ کنکشنز کے لیے بائیومیٹرک تصدیق لازمی قرار دی گئی ہے۔ یہ اقدام آئیسکو کے چیف ایگزیکٹو انجینئر چوہدری خالد محمود اور نادرا ٹیکنالوجیز کے سی ای او عمر خان آزاد کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد عمل میں لایا جا رہا ہے۔
نئے بائیومیٹرک نظام کا مقصد جعلی اور غیر قانونی کنکشنز کی روک تھام اور صارفین کی درست شناخت کو یقینی بنانا ہے۔ اس نظام کے تحت کنکشن جاری کرنے سے پہلے درخواست دہندہ کی انگلیوں کے نشانات کے ذریعے تصدیق کی جائے گی، جس سے جعل سازی کے امکانات ختم ہو جائیں گے۔
آئیسکو حکام کے مطابق یہ اقدام نہ صرف شفافیت میں اضافہ کرے گا بلکہ صارفین کے ریکارڈ کی درستگی، واجبات کی نگرانی، اور بقایاجات کی بروقت ادائیگی میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ نئے نظام کے نفاذ کے بعد نادہندگان بقایا جات ادا کیے بغیر نیا کنکشن حاصل نہیں کر سکیں گے۔
نادرا ٹیکنالوجیز کے ساتھ دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئیسکو کے چیف ایگزیکٹو چوہدری خالد محمود نے کہا کہ کمپنی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹلائزیشن کی سمت ایک اہم قدم ہے، جو بجلی کے نظام کو مزید شفاف، مؤثر اور صارف دوست بنائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔