کھلاڑی کا کیریئر تب ختم ہوتا ہے جب وہ توجہ یا محنت چھوڑ دے: وقار یونس
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
سابق فاسٹ بولر اور کوچ وقار یونس نے کہا ہے کہ کسی کھلاڑی کا کیریئر تب ختم ہوتا ہے جب وہ خود اپنی توجہ کھو دے یا محنت چھوڑ دے۔
جیو نیوز کے پروگرام ’ہنسنا منع ہے‘ میں گفتگو کرتے ہوئے وقار یونس نے احمد شہزاد اور عمر اکمل کے کیریئر ختم کرنے سے متعلق الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کسی کا کیریئر ختم کرنے کا اختیار کسی کے پاس نہیں، میں نے صرف پی سی بی کو یہ مشورہ دیا تھا کہ دونوں کھلاڑی پہلے اپنی فارم بحال کرنے کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں۔
وقار یونس نے سابق کرکٹرز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف تبصرے تک محدود ہیں اور موجودہ کھلاڑیوں کی رہنمائی میں دلچسپی نہیں لیتے۔
انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی کے کھلاڑی ایک دوسرے سے تجربہ شیئر کیا کرتے تھے لیکن آج کے سابق کھلاڑی میدان سے کٹ گئے ہیں، مجھے خوش قسمتی سے کوچنگ اور اصلاحی کردار ادا کرنے کے مواقع ملے۔
وقار یونس نے بتایا کہ اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد میں نے محمد عامر کی واپسی کے لیے کردار ادا کیا اور کوچز، محمد حفیظ، اظہر علی اور نجم سیٹھی کو آمادہ کیا کہ وہ عامر کو دوبارہ موقع دیں۔
انہوں نے کہا کہ عامر نے واپسی کے بعد شاندار کارکردگی دکھائی اور پاکستان کو چیمپئنز ٹرافی جتوانے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم مکی آرتھر کے آنے کے بعد ٹیم کے حالات بدلے اور انگلینڈ کے دورے میں عامر کو سخت مقابلے کا سامنا رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ٹیم کارکردگی کی بنیاد پر منتخب ہوتی ہے اور کسی بھی کھلاڑی کو واپسی سے قبل اپنی فارم فرسٹ کلاس کرکٹ میں ثابت کرنا ہوتی ہے، عامر کو مکمل حمایت اور موقع دیا گیا، لیکن وہ خود کو نظرانداز سمجھنے لگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وقار یونس نے کہا کہ
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔