پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں بدنظمی، بد انتظامی کا ذمہ دار علی امین کا خود ساختہ ترجمان قرار
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 27 ستمبر کے جلسے کی ناکامی سے متعلق پارٹی کی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے جلسے کی ناقص منصوبہ بندی، بدانتظامی اور متعدد غیر مجاز اقدامات کی نشاندہی کرکے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خودساختہ ترجمان کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
پی ٹی آئی ضلع پشاور نے 27 سمتبر کے جلسے میں بدنظمی، ناقص منصوبہ بندی اور بد انتظامی پر 3 رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جسے اس حوالے تفصیلی رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اختلافات، وزیراعلیٰ کے خودساختہ ترجمان اور صوبائی صدر آمنے سامنے
پی ٹی آئی ضلع پشاور کے صدر عرفان سلیم نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی میں خورشید عالم، رفیع اللہ اور انجینیئر قادر نواز کو شامل کیا تھا۔
کمیٹی نے آج 3 صفحات پر مشتمل رپورٹ جمع کرادی ہے، جس میں کوتاہیوں کی نشاندہی کے ساتھ ذمہ داروں کا تعین اور آئندہ کے لیے تجویز بھی دی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کا خودساختہ ترجمان ذمہ دار قراررپورٹ کے مطابق جلسے کی ناکامی کی بڑی وجہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے خودساختہ ترجمان فراز مغل کو قرار دیا گیا ہے۔
کمیٹی نے انکشاف کیاکہ فراز مغل نے خود کو وزیراعلیٰ کا ترجمان ظاہر کرتے ہوئے غیر مجاز طور پر قریباً 100 ریڈ پاسز جاری کیے، اور اس دوران کئی سینیئر پارٹی عہدیداروں سے بدتمیزی بھی کی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پشاور ضلعی تنظیم کو میزبان ضلع ہونے کے باوجود کوئی واضح کردار یا ذمہ داری نہیں دی گئی، جس سے مجموعی انتظامی کنٹرول متاثر ہوا، جبکہ جلسے کی تمام تر ذمے داری فرار مغل کے پاس تھی۔
فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے جلسہ گاہ میں صفائی کے ناقص انتظامات، ملبے و گردوغبار کی موجودگی اور آلودہ ماحول کو شرکا کے لیے مشکلات کا باعث قرار دیا۔
رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ جلسہ گاہ میں آوارہ کتوں کی موجودگی شرکا کے لیے پریشانی کا باعث بنی۔
رپورٹ میں بعض پارٹی عہدیداروں اور پولیس اہلکاروں کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ کمیٹی کے مطابق کچھ پولیس اہلکاروں نے صحافیوں اور خواتین شرکا کے ساتھ نامناسب سلوک کیا۔
مزید یہ کہ متعدد گروپس نے اسٹیج مینجمنٹ بغیر کسی رابطے کے انجام دی، جس سے بدنظمی پیدا ہوئی، جب کہ ناقص لاجسٹک انتظامات اور ناکافی سہولیات نے شرکا کو مایوس کیا۔
کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا ہے کہ آئندہ تمام جلسوں میں ضلع تنظیم کو واضح ذمہ داریاں دی جائیں، کمانڈ کا نظام وضع کیا جائے، صفائی کے انتظامات قبل از وقت مکمل کیے جائیں اور غیر مجاز افراد کی مداخلت پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور کل تک ترجمان فراز مغل کو عہدے سے فارغ کریں، جنید اکبر کا وزیراعلیٰ کو الٹی میٹم
رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ جلسوں میں صحافیوں اور خواتین کے احترام کو یقینی بنایا جائے۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے نتیجہ اخذ کیا کہ 27 ستمبر کا اجتماع عوامی حمایت کا مظہر ضرور تھا، تاہم تنظیمی اور انتظامی خامیوں سے سبق سیکھنا ناگزیر ہے۔ کمیٹی نے ضلعی تنظیم کو رپورٹ جمع کرا دی ہے، جس پر پارٹی کی جانب سے کارروائی کی جائےگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بدنظمی پشاور جلسہ خود ساختہ ترجمان علی امین گنڈاپور فراز مغل وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور جلسہ خود ساختہ ترجمان علی امین گنڈاپور وزیراعلی خیبرپختونخوا وی نیوز فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی خودساختہ ترجمان رپورٹ میں پی ٹی آئی کمیٹی نے علی امین جلسے کی کے لیے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔