پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات شدید ،سپیکر خیبرپختونخوا نے استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں اندرونی اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔
وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اسپیکر بابر سلیم سواتی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس بلا کر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا، تاہم اسپیکر نے دوٹوک انداز میں انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ یہ عہدہ صرف عمران خان کے کہنے پر چھوڑیں گے، کیونکہ یہ منصب انہیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے سونپا تھا۔ اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر خود عمران خان سے براہ راست ملاقات کریں گے۔
وزیراعلیٰ نے کابینہ میں رد و بدل اور بعض وزراء کو فارغ کرنے کے بعد اب اسپیکر کو بھی اپنے سیاسی اقدامات کا نشانہ بنایا ہے، جس سے پارٹی کے اندر اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اسپیکر بابر سلیم سواتی پر ماضی میں پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کی جانب سے بھی کچھ الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ان الزامات کے جواب میں بابر سلیم سواتی نے وزیراعلیٰ سمیت مختلف اداروں کو خطوط لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد معاملہ وقتی طور پر پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ختم کر دیا تھا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی حال ہی میں خیبرپختونخوا اسمبلی کے وفد کے ساتھ بیرونِ ملک سرکاری دورے پر روانہ ہونے والے تھے، مگر حالیہ سیاسی صورتحال اور پارٹی کے اندرونی مشوروں کے بعد انہوں نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا۔ ان کے قریبی حلقوں نے مشورہ دیا کہ ان کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف ممکنہ سازش ہو سکتی ہے، اس لیے احتیاط بہتر ہے۔ وفد کے دیگر اراکین اور اسمبلی اسٹاف اس وقت بیرون ملک موجود ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیکر سواتی کے پاس اسمبلی کے اندر ایک مضبوط گروپ موجود ہے، اور ان کے اپوزیشن جماعتوں سے بھی بہتر تعلقات ہیں۔ اگر ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آتی ہے تو امکان یہی ہے کہ وہ کامیاب نہیں ہو پائے گی۔ پی ٹی آئی کے بیشتر اراکین اسمبلی، جن سے اس حوالے سے بات ہوئی، نے اسپیکر سے وفاداری کا اظہار کیا ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کے ساتھ صرف وہ اراکین کھڑے دکھائی دے رہے ہیں جو کابینہ کا حصہ ہیں یا کسی عہدے پر فائز ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بابر سلیم سواتی پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے خراب صحت کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی عمر 76 برس ہے اور وہ اپریل 2023 سے ملک کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ اور خاندان سے منسلک 6.2 ارب ڈالر کے اثاثے ضبط کر لیے
صدر کے پریس سیکریٹری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق محمد شہاب الدین نے حالیہ طبی معائنے کے بعد بتایا کہ انہیں آٹونومک نیوروپیتھی نامی بیماری لاحق ہے جس کے باعث انہیں بعض اوقات اچانک مختصر وقت کے لیے بے ہوشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اس بیماری کے باعث وہ آئینی منصب کی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے قابل نہیں رہے اسی لیے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔
پارلیمنٹ کے اسپیکر قائم مقام صدر ہوں گےبیان کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک جاتیا سنگسد (قومی پارلیمنٹ) کے اسپیکر صدر کی آئینی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر نے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو بھیجے گئے اپنے استعفے میں لکھا کہ جسمانی اور ذہنی صحت مسلسل متاثر ہونے کے باعث وہ صدر جیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں مزید نبھانے کے قابل نہیں رہے۔
شیخ حسینہ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھےمحمد شہاب الدین جنہیں عام طور پر ’چپو‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے سنہ 2023 میں پارلیمنٹ کے ذریعے اس وقت صدر منتخب ہوئے تھے جب سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ اقتدار میں تھی۔
مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
تاہم سنہ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور وہ بھارت منتقل ہو گئیں، جس کے بعد صدر شہاب الدین پر بھی مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔
فون پر رابطے کے الزامات
رواں سال مئی میں لندن میں زیر علاج ہونے کے دوران ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے شیخ حسینہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، تاہم صدر نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
عوامی لیگ پر پابندی برقرارمحمد شہاب الدین کے استعفے کے بعد شیخ حسینہ کا اعلیٰ ریاستی عہدوں پر موجود ایک اور اہم اتحادی بھی منظر سے ہٹ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہی، امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات
شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے جبکہ سال 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد پارٹی کے متعدد رہنما اور کارکن یا تو گرفتار ہو چکے ہیں یا روپوش ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں