انڈونیشیا میں اسکول منہدم‘ اموات کی تعدادمیں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈونیشیا میں اسکول منہدم‘ اموات کی تعدادمیں مزید اضافہ
جکارتا: انڈونیشیا میں اسکول کے منہدم ہونے سے مرنے والوں کی تعداد 75 تک ہو گئی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا کے علاقے مشرقی جاوا میں زیر تعمیر اسکول کی عمارت گرنے کے بعد سے 13 تاحال لاپتا ہیں جبکہ 99 طلبہ کو ملبے سے بہ حفاظت نکال لیا گیا ۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق زخمی طلبہ کی عمر 12 سے 17 سال کے درمیان ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حادثے کے وقت اسکول میں تدریسی عمل جاری تھا جبکہ دوسری طرف تحقیقات سے پتا چلا کہ عمارت کی بنیادیں کمزور تھیں، جس پر اضافی منزل کی تعمیر بغیر اجازت کی جا رہی تھی۔ مذکورہ حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن کی ٹیم ایک درجن سے زائد لاپتا افراد کی تلاش کرنے میں تاحال مصروف ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔