سیلاب زدگان کی امداد حکمرانوں کی جیبوں میں گئی، بیرسٹر علی ظفر
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
اسلام آباد: تحریک انصاف کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر کاکہنا ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے سیلاب زدگان کے ساتھ انصاف نہیں کیا، امداد عوام تک نہیں بلکہ حکمرانوں کی جیبوں تک پہنچی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق بیرسٹر علی ظفر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سندھ حکومت نے صرف کتابوں میں لوگوں کو ڈوبنے سے روکا جبکہ پنجاب حکومت کی امداد متاثرین تک پہنچی ہی نہیں، اس وقت مقابلہ اس بات کا نہیں کہ کس نے زیادہ کام کیا بلکہ اس بات کا ہے کہ کس نے زیادہ فوٹو سیشن کروایا۔
انہوں نے حکومتی رویے کو بے حسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ سے زیادہ پریس کانفرنسز کرنے اور ٹرک یا کشتی پر بیٹھ کر تصویریں بنوانے کا مقابلہ جاری ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیلاب زدہ لوگ اپنی چھتوں پر خالی ہاتھ ہلاتے رہے۔
تحریک انصاف کے سینیٹر نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں ہی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خاطر خواہ کام کرنے میں بری طرح ناکام رہیں، یہ صورتحال ایسی ہے جیسے دو افراد جھگڑ رہے ہوں کہ کس نے آگ لگانے کے لیے کم تیل چھڑکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ حکومتیں عوام کی خدمت کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ٹرافی کے لیے لڑ رہی ہیں۔ میں انہیں بے حسی، جھوٹ، نااہلی اور لالچ کی ٹرافیاں دیتا ہوں۔
بیرسٹر علی ظفر نے انکشاف کیا کہ پنجاب کے 4700 دیہات اب بھی سیلاب سے متاثر ہیں اور کئی خاندان خوراک، پینے کے پانی اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں لیکن حکومتی ادارے باہمی اختلافات اور سیاسی مفادات میں الجھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے لیے فوری اور شفاف اقدامات کیے جائیں اور تمام صوبوں میں امدادی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کے لیے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: بیرسٹر علی ظفر کے لیے
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔
اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھی۔
واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :