سیلاب متاثرین کی امداد بارے بات سے پنجاب پر حملہ کیسے ہوگیا؟ قمر زمان کائرہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر راہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ معاملات میں تلخی سے حالات خراب ہوں گے، پیپلزپارٹی قیادت نے متاثرین کی امداد کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز دی۔ اسلام ٹائمز۔ سینئر راہنما پاکستان پیپلز پارٹی قمر زمان کائرہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی امداد بارے بات سے پنجاب پر حملہ کیسے ہوگیا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ معاملات میں تلخی سے حالات خراب ہوں گے، پیپلزپارٹی قیادت نے متاثرین کی امداد کے طریقہ کار سے متعلق تجاویز دی۔
قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے صرف اتنا کہا کہ متاثرین کی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد کی جائے، ہم نے مطالبہ کیا کہ زرعی ایمرجنسی لگائی جائے۔ سینئر راہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ہمیں بھیک مانگنےکا طعنہ دیا گیا، بات سیلاب متاثرین کی امداد کے طریقہ کار سے شروع ہوئی، پنجاب پر حملہ کیسے ہو گیا۔؟ اگر یہ صورتحال بن جائے تو پھر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: متاثرین کی امداد قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔