ایس ایم ایس وٹس ایپ اور کالز کے ذریعے فشنگ حملوں میں اضافہ ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نےشہریوں کو خبردار کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایس ایم ایس وٹس ایپ اور کالز کے ذریعے فشنگ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، جعلی پیغامات اور کالز کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چرائے جانے کا انکشاف ہواہے ، نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ کسی نامعلوم لنک پر کلک کریں نہ مشکوک پیغامات یا کالز کا جواب دیں ۔
نیشنل سرٹ کے مطابق ہیکرز جعلی پیغامات اور کالز کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چرا رہے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ یا او ٹی پی کوڈ کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ غیر تصدیق شدہ ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے لاگ ان سے گریز کیا جائے ۔ صرف سرکاری چینلز استعمال کریں اور اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھیں ۔
بھارتی فلم پروڈیوسر اداکارہ کو شراب پلا کر جنسی ہراساں کرنے اور نجی ویڈیوز بنانے کے الزام میں گرفتار
نیشنل سرٹ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق فشنگ پیغامات میں اکثر انعامات، لاٹری یا بینک الرٹ کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی ریسپانس ٹیم نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور جعلی نمبروں کو بلاک کرنے کی اپیل کی ہے۔ اگر کسی مشکوک لنک پر کلک ہو جائے تو فوراً پاس ورڈ تبدیل کریں اور متعلقہ ادارے کو اطلاع دیں۔ کسی بھی ادارے کا نمائندہ فون یا ایس ایم ایس پر آپ سے پاس ورڈ یا کوڈ نہیں مانگتا۔ فشنگ حملے ملکی سطح پر بڑھ رہے ہیں ، ان سے بچنے کیلئے ہوشیار رہیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اور کالز کے ذریعے
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔