پاکستان میں ہیروز کے مقابلے میں ہیروئنز کا کیریئر مختصر کیوں ہوتا ہے؟ فیصل قریشی نے اہم وجہ بتادی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
پاکستانی انڈسٹری کے معروف اداکار و میزبان فیصل قریشی نے ہیروز کے طویل عرصے تک کام کرنے اور ہیروئنز کے کم عرصے میں پس پردہ جانے کی وجوہات پر کھل کر بات کی ہے، انہوں نے بتایا کہ ہیروز کے مقابلے میں ہیروئنز کا کیریئر مختصر کیوں ہوتا ہے۔
فیصل قریشی کا حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مرد اداکار زندگی بھر اداکاری کو اپنا پیشہ بنائے رکھتے ہیں، جبکہ خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریوں کی بنا پر کام میں وقفہ لیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل قریشی کا اہلیہ کے ساتھ سرعام پیار، ویڈیو وائرل، سوشل میڈیا صارفین سیخ پا
اداکار نے سویرہ ندیم اور جویریہ سعود کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خواتین اکثر بچوں کی پرورش اور گھریلو معاملات کی وجہ سے کچھ عرصہ کام سے دور رہتی ہیں، تاہم بعد میں دوبارہ پیشہ ورانہ میدان میں واپس آ جاتی ہیں۔
فیصل قریشی نے مزید کہا کہ خواتین کو اپنے خاندان میں ایک خاص تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے اور جب یہ تحفظ حاصل ہو جاتا ہے تو وہ کم کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو پاکستانی ڈراموں کی جانب راغب کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: خلیل الرحمان قمر نے فیصل قریشی کی سابقہ اہلیہ سے شادی کیوں کی؟ وجہ ناقابل بیان
انہوں نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے بعد فنکاروں پر عائد پابندی اور ایشیا کپ میں ہونے والے تنازع پر بھی بات کی اور کہا کہ بھارتی فنکار اور کھلاڑی سیاسی دباؤ میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارتی کھلاڑیوں کو واپس اسی ملک میں جانا ہے اور وہاں رہنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامے جویریہ سعود سویرا ندیم فیصل قریشی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامے جویریہ سعود سویرا ندیم فیصل قریشی فیصل قریشی
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔